ایگزیکٹ کے خلاف تحقیقات شفاف ہوں گی: چوہدری نثار
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جعلی ڈگریوں کے معاملے پر نجی کمپنی ایگزیکٹ سے متعلق تحقیقات شفاف طریقے سے کی جائیں گی اور اس بارے میں کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی چھان بین کے لیے غیر ملکی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔
<link type="page"><caption> ’ایگزیکٹ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150519_nisar_fia_axact_zh" platform="highweb"/></link>
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں اس معاملے کو کافی ہوا دی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس کے علاوہ اور کوئی خبر نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق تحقیقات میں ماہر سمجھے جانے والے افسران کو شامل کیا ہے اور اس بارے میں جو بھی پیش رفت ہوگی اس سے متعلق عوام اور پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے کسی کو مجرم قرار دینا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے جعلی ڈگریوں کے مبینہ سکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے راولپنڈی میں ایگزیکٹ کے دفتر کو سیل کر کے اور وہاں پر موجود سامان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر طاہر تنویر کی سربراہی میں ایف آئی اے کے دس سے زائد افراد بدھ کو اس عمارت میں موجود سامان کی جانچ پڑتال کرتے رہے۔
ایف آئی اے کی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس عمارت میں ڈگریوں سے متعلق دستاویزات اور اس معاملے میں رجسٹر ہونے والے افراد کا ڈیٹا چیک کیا جا رہا ہے۔
اہلکار کے مطابق منگل کو ایگزیکٹ کی عمارت پر چھاپے کے دوران قبضے میں لیے گئے کمپیوٹروں کو لیبارٹری میں بھجوا دیا گیا ہے جس کی رپورٹ ایک ہفتے میں آئے گی۔
ایف آئی اے نے اس کمپنی کے مقامی ذمہ داران کو جمعرات کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ابھی تک اس کمپنی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا جبکہ تحقیقات کے ضمن میں حراست میں لیے جانے والے 20 افراد کو گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اہلکار کے مطابق اس کمپنی سے منسلک دو افراد کو گھر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اُدھر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے سائبر کرائم کا بل منظور نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر پارلیمنٹ سے یہ بل منظور کر کے قانون بن گیا ہوتا تو جعلی ڈگریوں کا معاملہ پیش نہ آتا۔
قائمہ کمیٹی کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کا کہنا تھا کہ جعلی ڈگریوں کے معاملے پر ملک کی پوری دنیا میں بدنامی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی کہ اس سکینڈل میں ملوث ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
نیویارک ٹائمز کے پاکستان میں بیورو چیف ڈیکلن والش نے پیر کو <link type="page"><caption> ایگزیکٹ پر کمپنی پر الزام لگایا تھا کہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150519_nisar_fia_axact_zh" platform="highweb"/></link> انٹرنیٹ پر امریکہ، کینیڈا، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں کرنے والی جعلی ڈگریاں فروخت کر کے ایگزیکٹ لاکھوں ڈالر کما رہی ہے۔ خبر میں کمپنی کے سابق اہلکاروں اور متاثرین سے تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ نیویارک ٹائمز نے ایگزیکٹ کی ان مبینہ آن لائن یونیورسٹیوں اور کالجوں کی فہرست شائع کرتے ہوئے ان کا تکنیکی تجزیہ بھی پیش کر کے ان کا ایگزیکٹ سے مبینہ تعلق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس خبر پر ایگزیکٹ نے کل نیویارک ٹائمز اور ڈیکلن والش کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا اور اپنی ویب سائٹ پر شائع بیان میں ان الزامات کو بے بنیاد، ہتک آمیز اور غیر معیاری قرار دیا۔







