موبائل فون سموں کی تصدیق کی مہلت ختم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا کہنا ہے کہ سنیچر 16 مئی سے کسی بھی موبائل ِسم کی تصدیق نہیں کی جائے گی جبکہ دو کڑور 20 لاکھ سموں کو بلاک کیا جا چکا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے موبائل سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کے لیے 17 روز کی توسیع کی تھی۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 15 مئی کی ڈیڈ لائن تک ملک بھر میں آٹھ کڑور سموں کی تصدیق کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد سموں کی تصدیق کا معاملہ وائٹ پیپر میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ بیرون ملک موجود پاکستانیوں کی سموں کی عارضی تصدیق کی گئی ہے اور وطن واپسی پر ان کی دوبارہ تصدیق کی جائے گی۔
پی ٹی آے کے مطابق ملک میں موجود 80 لاکھ سے زائدغیر رجسٹرڈ سموں کو بلاک کیا جائے گا۔
دہشت گردی میں سِم کا استعمال

،تصویر کا ذریعہPA
پاکستان میں موبائل صارفین کی تعداد دس کروڑ سے زائد تک پہنچ چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد موجودہ حکومت نے موبائل سمز کی تصدیق کی ہدایات جاری کی تھیں۔
28 مئی کو وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیاگیا تھا کہ 15 مئی گزرنے کے بعد اگر غیر تصدیق شدہ سم شدت پسندی کے کسی بھی واقعہ میں استعمال ہوئی تو متعلقہ موبائل کمپنی کے خلاف ضابطہ فوجداری قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
موبائل سِم کو دہشت گردو باہمی رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دھمکی آمیز فون کالوں، رقم کی منتقلی اور نصب شدہ بموں کو اڑانے کے لیے بھی اسی سم کا استعمال ہوتا ہے۔
سِموں کی تصدیق کا عمل 2005 میں نادرا کی جانب سے قومی شناختی کارڈز کو کمپیوٹرائز کیے جانے کی وجہ سے آسان ہوا۔
اس سسٹم کے تحت پاکستانی قومیت کے حامل تمام لوگ اپنا اپنا بائیومیٹرک ڈیٹا قومی ڈیٹا بیس اور نادرا کو دیتے ہیں جس کے بعد انھیں قومی شناختی کارڈ یعنی سی این آئی سی نمبر مل جاتا ہے۔
اس وقت پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں کل پانچ کمپنیاں موجود ہیں۔







