خیبر پختونخوا: دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت چار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقے کلاچی اور ٹانک کی سرحد پر نا معلوم افراد کے حملے میں ایف سی کے دو اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔
کلاچی اور اس کے مضافات میں لگ بھگ دو ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر یہ تیسرا بڑا حملہ ہے ۔ پولیس حکام کے مطابق منگل کی شام گومل زم ڈیم کی نہر پر کام کرنے والے فوج کے تعمیراتی ادارے ایف ڈبلیو او کے دو اہلکار کام کے لیے موجود تھے جبکہ فرنٹیئر کور کے دو اہلکار ان کی حفاظت کے لیے وہاں موجود تھے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس افسر صادق حسین کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی وردی میں ملبوس کچھ افراد وہاں پہنچے اور ان کے بارے میں پہلے معلومات حاصل کیں اور بعد میں انھیں فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ۔ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ موجود ایک ڈرائیور کو چھوڑ دیا تھا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ یہ علاقہ ایک مثلث کی طرح ہے جہاں سے ٹانک ، کلاچی اور ادھر نیم قبائلی علاقے کی طرف راستہ جاتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور اس واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گئے ہیں جن کے خلاف سرچ آپریشن کیا گیا ہے ۔ اس آپریشن میں کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے ۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دریں اثنا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے ذرائع ابلاغ کو ایک ای میل میں اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔
کلاچی میں گذشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں سکیورٹی فورسز کے قافلوں پر دو حملے ہوئے تھے جس میں دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے تھے۔
یہ حملے ہتھالہ روڈ پر روڑی روڈ پر ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد بھی علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا تھا لیکن کسی قسم کی کوئی گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کلاچی اور اس کے قریبی علاقوں میں شدت پسند روپوش ہیں جن کے خلاف تین ماہ پہلے بڑی کارروائیاں کی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کلاچی اور ٹانک میں اس سے پہلے بھی سیکیورٹی فورسز اور امن لشکر کے رضا کاروں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ گذشتہ ماہ ضلع ٹانک میں امن لشکر کے ایک
رہنما اور دو وکلا کو الگ الگ واقعات میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔







