ٹانک میں فائرنگ، امن کمیٹی کے سربراہ ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے مقامی امن کمیٹی کے سربراہ کو ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ گومل میں کوٹ سید بادشاہ کے قریب پیش آیا ہے اور حملے میں دو رضا کار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پولیس اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم افراد راستے پرگھات لگا کر بیٹھے تھے اور امن کمیٹی کے سربراہ شیر پاؤ محسود اپنے رضا کاروں کے ہمراہ سفر کر رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔
پولیس کے مطابق اس حملے میں شیرپاؤ محسود ہلاک ہوگئے جبکہ انور اور وسیم نامی دو رضا کار شدید زخمی ہوئے ہیں۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ امن کمیٹی کے سربراہ رضا کاروں کے ہمراہ کوٹ اعظم میں اپنے دفتر کی جانب جا رہے تھے۔ کوٹ اعظم کا یہ علاقہ ٹانک سے جنوبی وزیرستان کی جانب جانے والے راستے کے قریب واقع ہے۔
ٹانک میں امن کمیٹی کے رہنماؤں اور رضا کاروں پر یہ پہلا حملہ نہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
گذشتہ سال فروری میں بھی امن کمیٹی کے مقامی رہنما اور رضا کار شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 2013 میں بھی یہاں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے امن کمیٹی کے دو رضا کاروں کو ہلاک کیا تھا۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شدت پسندوں کے خلاف مقامی سطح پر حکومت کی حمایت سے امن کمیٹیاں اور امن لشکر کے نام سے مسلح گروپ تشکیل دیے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ کمیٹیاں اور لشکر بعض علاقوں میں موثر رہے لیکن کچھ مقامات پر ان کے خلاف شکایات بھی موصول ہوئی تھیں۔
حال ہی میں حکومت نے شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی سے قبل وہاں کے قبائلی رہنماؤں سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں جا کر شدت پسندوں کے خلاف امن لشکر قائم کریں تاہم ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے اور وہ شدت پسندوں کے خلاف لشکر نہیں بنا سکتے۔
ان کے مطابق پاکستان کے تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے اور حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔







