’فوج سے جھڑپ میں حقانی نیٹ ورک کا رہنما ہلاک‘

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران شدت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائیاں کی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران شدت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائیاں کی گئی ہیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں حقانی نیٹ ورک کے رہنما فاروق زدران ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب جنوبی اور شمالی وزیرستان ایجنسی کے سرحدی علاقے میں پیش آیا اور اس جھڑپ کے بعد تنظیم سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

علاقے کی سکیورٹی سے متعلق ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار تحصیل بیرمل میں سرکنڈہ کے مقام پر معمول کے گشت پر تھے کہ اس دوران ان کا سامنا شدت پسندوں کے ایک گروہ سے ہوا۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند شمالی وزیرستان میں فوج کی پیش قدمی کی باعث جنوبی وزیرستان کی جانب فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ سکیورٹی اہلکاروں سے ان کی مدبھیڑ ہوئی۔

ان کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے شدت پسندوں پر فائرنگ کی جس سے حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما فاروق زدران مارے گئے جبکہ ان کے نو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس کارروائی میں ایک شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوا۔

حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں گھیرا تنگ ہوتا دیکھ کر اکثر شدت پسند دیگر علاقوں میں روپوش ہوگئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں گھیرا تنگ ہوتا دیکھ کر اکثر شدت پسند دیگر علاقوں میں روپوش ہوگئے ہیں۔

فاروق زدران کی ہلاکت کے بارے میں حقانی نیٹ ورک کی جانب سے اب تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس ہلاکت کی تصدیق یا تردید کی گئی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ فاروق زدران پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے آپریشنل کمانڈر تھے اور انھیں یہ عہدہ ان کے بھائی سنگین زدران کی شمالی وزیرستان کے علاقے درگا منڈی میں ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ملا تھا۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی <link type="page"><caption> آپریشن ضرب عضب کے دوران شدت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائیاں کی گئی ہیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/11/141115_zarbe_azb_5_months_details_rh.shtml" platform="highweb"/></link> اور حکام کے مطابق گھیرا تنگ ہوتا دیکھ کر اکثر شدت پسند دیگر علاقوں میں روپوش ہوگئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے دس لاکھ افراد کو نقل مکانی پر بھی مجبور ہونا پڑا تھا جن کی واپسی کا سلسلہ بھی چند ہفتے پہلے شروع کیا جا چکا ہے۔