شمالی وزیرستان میں جھڑپ، فوجی اہلکار سمیت چھ ہلاک

فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا ہے جبکہ جوابی حملے میں پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی صبح شمالی وزیرستان کے دورافتادہ سرحدی علاقے دتہ خیل میں بازار کے قریب پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ مسلح دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں سے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا۔

اہلکار نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کی اور اس دوران پانچ شدت پسند مارے گئے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے اردگرد کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان فوج نے گزشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تھا۔

حال ہی میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی شروع ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی شروع ہوئی ہے

فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے ۔تاہم ایجنسی کے دورافتادہ سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں شدت پسندوں کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے دس لاکھ سے زائد افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں پناہ لینا پڑی تھی۔حال ہی میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی شروع ہوئی ہے۔

متاثرین کی بڑی تعداد اب بھی پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ متاثرین کی مکمل واپسی ایک سال میں مکمل ہو گی اور اس دوران علاقے میں تعمیر نو اور بحالی کا کام بھی جاری رہے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ شمالی وزیرستان کے واپس جانے والے قبائل کے ساتھ حکومت کی جانب سے ’سماجی معاہدے‘ کے نام سے موسوم ایک معاہدہ بھی کیا گیا ہے، جس میں قبائل کو پابند کیا جارہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز اور پولیٹکل انتظامیہ کے تحفظ کے ذمہ دار ہونگے لیکن قبائل نے اس معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔