خیبر میں اہم کمانڈروں سمیت 30 شدت پسند ہلاک

حالیہ کارروائی سے قبل فوج نے اپنے بیان میں خیبر ٹو میں ہلاکتوں کی کل تعداد 80 سے زائد بتائی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنحالیہ کارروائی سے قبل فوج نے اپنے بیان میں خیبر ٹو میں ہلاکتوں کی کل تعداد 80 سے زائد بتائی تھی

پاکستانی فوج نے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں اہم کمانڈروں سمیت 30 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے سرکاری ریڈیو نے خبر دی ہے کہ بدھ کے روز قبائلی علاقے وادی تیراہ میں کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے اسلحے کے دو ذخیرے بھی تباہ ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں جن 30 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے ان میں اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔ تاہم بیان میں کسی بھی کمانڈر کا نام نہیں لیا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اس علاقے میں خیبر ٹو کے نام سے آپریشن کر رہی ہے۔ ایک روز قبل آئی ایس پی آر نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ فوج نے مستول سرنگ پر قبضہ کر لیا ہے، جسے دہشت گرد خیبر ایجنسی سے افغانستان آنے جانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

اس سے قبل بیان میں آئی ایس پی آر کے ترجمان نے خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ٹو کے دوران اب تک مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد 80 بتائی تھی۔

فوجی کارروائیوں کے باعث کئی ہزار افراد کیمپوں یا اپنے عزیز و اقارب کے گھر رہنے پر مجبور ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفوجی کارروائیوں کے باعث کئی ہزار افراد کیمپوں یا اپنے عزیز و اقارب کے گھر رہنے پر مجبور ہیں

ادھر کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملے میں ایک ایف سی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے پیش آیا۔

ایف سی اہلکار گاڑی بلال مہمند گاڑی میں جارہے تھے کہ پٹی چیک پوسٹ کے قریبی علاقے میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔