خیبر ایجنسی میں اہم کامیابیاں ملنے کا دعویٰ

 آپریشن میں فوج نے اہم کامیابیاں ملنے کا دعویٰ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہPAF

،تصویر کا کیپشن آپریشن میں فوج نے اہم کامیابیاں ملنے کا دعویٰ کیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کی فوج نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری کارروائیوں میں اہم کامیابیاں ملنے اور دہشت گردوں کو پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے زیر قبضہ پاک افغان سرحد کے قریب ایک اہم علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ گذشتہ رات افغان سرحد سے متصل قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے فضائی حملے کیے اور دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔

عاصم باجوہ کے مطابق اس آپریشن میں فوج کو اہم کامیابیاں ملی ہیں تاہم انھوں نے ان کامیابیوں کو مزید واضح نہیں کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مستول سرنگ پر قبضہ کرلیا ہے، جسے دہشت گرد خیبر ایجنسی سے افغانستان آنے جانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ فوج پیش قدمی کر رہی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقے وادی تیراہ میں گذشتہ چند دنوں سے سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی آرہی ہے۔

شورش زدہ تیراہ میں مختلف کالعدم تنظیمیں انصار الاسلام، لشکر اسلام، تحریکِ طالبان اور امن تنظیم توحید الاسلام متحرک ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشورش زدہ تیراہ میں مختلف کالعدم تنظیمیں انصار الاسلام، لشکر اسلام، تحریکِ طالبان اور امن تنظیم توحید الاسلام متحرک ہیں

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے دو دن پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ٹو کے دوران اب تک 80 دہشت گرد مارے گئے ہیں جبکہ ان جھڑپوں میں سات سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس آپریشن میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ ہلاک ہوگئے ہیں تاہم سرکاری ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے بھی پیر کی صبح پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا تھا کہ انھیں بھی ٹی ٹی پی کے سربراہ کی خیبر ایجنسی میں آپریشن کے دوران ہلاکت کی اطلاعات ملیں ہیں، تاہم وہ اس کی تصدیق نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حقائق ایک دو دنوں میں سامنے آجائیں گے۔

پاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں جاری ضرب عضب آپریشن کے دوران ہی خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں جاری ضرب عضب آپریشن کے دوران ہی خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کیا تھا

دوسری طرف طالبان نے بھی مولا فضل اللہ کی ہلاکت کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔ تحریک کے ترجمان محمد خراسانی نے ٹوئٹر پر جاری ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ طالبان کے امیر آپریشن کے دوران مارے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں انہیں بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی کا علاقہ وادی تیراہ 80 سے لے کر 100 کلومیڑ پر پھیلا ہوا ایک قبائلی خطہ ہے جس کی سرحدیں تین قبائلی ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کُرم سے ملتی ہیں۔سرسبز و شاداب علاقہ وادی تیراہ افغانستان کی سرحد سے قریب اور باڑہ سے تقریباً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

2004 میں جب قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں کا آغاز ہوا تو مختلف شدت پسند تنظیموں نے محفوظ علاقہ ہونے کے ناطے وادی تیراہ کا رُخ کیا جہاں بعد میں اُنھوں نے اپنے مراکز، ٹھکانے، نجی جیل خانے اور عدالتیں قائم کر کے مختلف مقامات پر قبضہ جما لیا۔

شورش زدہ تیراہ میں مختلف کالعدم تنظیمیں انصار الاسلام، لشکر اسلام، تحریکِ طالبان اور امن تنظیم توحید الاسلام متحرک ہیں، جن کو مختلف قبائلیوں کی مدد حاصل ہے۔