تیراہ میں تازہ بمباری میں ’11 شدت پسند ہلاک‘

خیبر ایجنسی ایک شورش زدہ علاقہ ہے جہاں 17 اکتوبر سے فوجی آپریشن خیبر ون شروع کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہPAF

،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی ایک شورش زدہ علاقہ ہے جہاں 17 اکتوبر سے فوجی آپریشن خیبر ون شروع کیا گیا ہے

پاکستان کے عسکری حکام کے مطابق ملک کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے تازہ فضائی حملوں میں11 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے بدھ کو جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے یہ فضائی کارروائی منگل کی شام کو گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ اس فضائی کارروائی میں خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

خیبر ایجنسی ایک شورش زدہ علاقہ ہے جہاں 17 اکتوبر سے فوجی آپریشن خیبر ون شروع کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس علاقے میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔

دسمبر کے اوائل میں وادی تیراہ کے دور دراز علاقے اکا خیل میں شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا تھا جس پر سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں چار شدت پسند ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔

نومبر کے وسط میں بھی خیبر ایجنسی میں بمباری کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے ان فضائی حملوں میں اہم کمانڈروں سمیت کم سے کم 19 شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس فضائی کارروائی میں خیبر ایجنسی کے علاقے سنڈپال میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔