پاکستانی فوج کی کارروائیوں کا مقصد کیا؟

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, ایم الیاس خان
- عہدہ, بی بی سی نیوز، اسلام آباد
نیٹو افواج کے افغانستان سے روانگی سے ایک ماہ قبل پاکستانی فوج خیبر ایجنسی میں شدت پسند جنگجوؤں کے خلاف زبردست آپریشن میں مصروف ہے۔
خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کا مقصد شمالی وزیرستان میں رواں برس جون سے جاری آپریشن کی وجہ سے وہاں سے بھاگنے والے شدت پسندگروہوں کو کسی اور علاقے میں ٹھکانوں کے حصول کو مشکل بنانا ہے۔
پاکستانی فوج نے پچھلے ماہ خیبر ایجنسی میں ’خیبر ون‘ کے نام سے آپریشن شروع کیا۔ خیبر ایجنسی کو شمالی وزیرستان کے بعد شدت پسندوں کی محفوظ ترین پناہ گاہ تصور کیا جاتا ہے۔
شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن میں پاکستانی فوج کو اب تک ایک سو فوجیوں کی قربانی دینی پڑی ہے۔ ان فوجیوں کی اکثریت گھریلو ساخت کے بموں کی زد میں آئی ہے۔
ادھر خیبر ایجنسی میں ایک ماہ سے جاری آپریشن میں درجنوں پاکستانی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ خیبر ون آپریشن کے دوران شدت پسندوں نے پاکستانی فوج پر چھپ کر حملوں اور آمنے سامنے لڑائی میں درجنوں فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔ خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن کی وجہ سے مقامی آبادی وہاں سے ہجرت پر مجبور ہو رہی ہے۔
ماہرین کے خیال میں خیبر ون آپریشن پاکستانی فوج کے قبائلی علاقوں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں پاکستانی فوج نہیں چاہتی کہ وزیرستان سے بھاگے ہوئے شدت پسندوں کو کوئی اور محفوظ پناہ گاہ مل سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ خیبر آپریشن کا مقصد صوبائی دارالحکومت پشاور اور افغانستان کے ساتھ زمینی راستوں کو شدت پسندوں کے خطرے سے بچانا ہے۔ خیبر ون کے مقاصد میں خیبر کے مقامی شدت پسند گروہ لشکر اسلام کو دوسرے شدت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے سے روکنا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی حکام اورکزئی ایجنسی میں پھنسے ہوئے شدت پسندوں کو بھی خیبر ایجنسی آنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اورکزئی اور خیبر کے قبائلی علاقوں میں مقامی شدت پسندوں کے علاوہ افغان، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے بھی رخ کیا ہے جو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے شروع ہونےسے پہلے شدت پسند گروہوں نے وہاں سے شمال اور جنوب کی طرف رخ کیا۔ افغانستان میں سرگرم حقانی نیٹ ورک شمالی وزیرستان سے کرم ایجنسی اور سرحد پار ننگر ہار کے علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں جبکہ تحریک طالبان پاکستان نے شمال مشرق میں تیراہ وادی کی طرف رخ کیا ہے۔ ان دونوں فوجی آپریشنوں میں شدت کا کوئی بڑا کمانڈر فوج کے ہاتھ نہیں لگا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کی اعلیٰ قیادت پہلے ہی پاکستان سے باہر ہے اور جو شمالی وزیرستان میں موجود تھے ان کو وہاں سے نکلنے کے لیے کم از کم ایک ماہ کا وقت ملا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج مقامی شدت پسند گروہوں حافظ گل بہادر، مولوی نذیر گروپ، سید سجنا کی قیادت میں قائم تحریک طالبان کا منحرف دھڑا اور حقانی نیٹ ورک کو ختم کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔ ان تمام گروہوں کے فوج کے ساتھ معاہدے ہیں اور ان کی سرگرمیوں کا مرکز پاکستان نہیں بلکہ افغانستان ہے۔
فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ 2011 میں امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے 2014 تک افغانستان سے فوجی انخلا کے اعلان کے بعد پاکستانی فوج شدت پسندوں کو پاکستانی سرزمین سے نکالنے کے ایک نظام الاوقات پر عمل پیرا ہے۔
پاکستانی فوج سمجھتی ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد شدت پسند گروہوں کو افغانستان سے پاکستان آنے سے روکنے کےلیے اسے اپنے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اگر دونوں آپریشن کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستانی افواج ایک بار پھر تمام پاکستانی قبائلی علاقوں پر موجود ہو گی۔
پاکستان کےسکیورٹی اہلکاروں کے خیال میں ان تمام کوششوں کے باوجود افغانستان کے ساتھ لمبی سرحدکو مکمل پر محفوظ بنانا ممکن نہیں ہے جس کا افغانستان، بھارت اور پاکستان مخالف گروہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ افغان سرزمین سے پاکستان مخالف کارروائیوں کے خطرے کے پیش نظر پاکستان افغانستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں متحرک گروہوں کی مدد کرتی رہے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا مقصد پاکستان، افغانستان اور بھارت کے مابین’ کچھ لو، کچھ دو‘ کی پالیسی کے تحت علاقے میں متحرک شدت پسندوں گروہوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ لیکن کیا یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچ سکیں گے یا نہیں، یہ کسی کو معلوم نہیں۔







