’میٹھا پانی نہ آیا اور انڈس ڈیلٹا بوڑھا ہوگیا‘

 سمندر آگے بڑھتا رہا اور کھارو چھان کو زیر آب لا کر اب سجن واری تک پہنچ گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشن سمندر آگے بڑھتا رہا اور کھارو چھان کو زیر آب لا کر اب سجن واری تک پہنچ گیا ہے۔
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کیٹی بندر

کیٹی بندر کے قریب سجن واری گوٹھ کے قریب ماہی گیروں کی کشتیاں گہرے سمندر میں کئی روز کا سفر مکمل کر کے کنارے پر لگ رہی ہیں۔

بعض کشتیوں سے مچھلیاں اتار کر انہیں پک اپ میں بھرا جارہا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی اور زیادہ سے زیادہ ایک سے ڈیڑھ فٹ کے سائز کی مچھلیاں تھیں جن کو ٹھٹہ سے کراچی تک پہنچانے لیے ان پر برف کی تہیں لگائی گئی ہیں۔

یہ کشتیاں پہلے اس مقام سے تقریباً 12 کلومیٹر دور کھارو چھان قصبے کے ساحل پر لنگر انداز ہوتی تھیں لیکن سمندر آگے بڑھتا رہا اور کھارو چھان کو زیر آب لا کر اب سجن واری تک پہنچ گیا ہے۔

جس جگہ کشتیاں کھڑی ہیں وہاں سڑک کے نشانات موجود ہیں جو کھارو چھان جاتی تھی مگر اب وہاں صرف کشتی کے ذریعے ہی سفر ممکن ہے۔

یہاں کے لوگوں کی گزر بسر ماہی گیری پر ہے لیکن پہلے ایسے نہ تھا۔

ایک کونے میں خود کو گرم شال سے لپیٹے ہوئے عبدالرحمان خاموشی سے کشتیوں سے اترتے چڑھتے ماہی گیروں کو تک رہے تھے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں اتنی ویرانی کیوں ہے تو اس نے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ زمین ندی کے میٹھے پانی سے آباد ہوتی تھی، پانی آنا بند ہوگیا اب تو کھارے پانی کا سیلاب ہے جس سے زمینیں بنجر بن گئیں اور ملک ویران ہوگیا اور اب وہ زندہ میں ہیں نہ مردوں میں۔

’ کشمیر اور پنجاب سے پانی آتا تھا، اب جب وہاں پانی زیادہ ہوتا ہے تو چھوڑتے ہیں ورنہ پانی چابی سے بند ہے۔‘

ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کے سربراہ محمد علی شاھ کہتے ہیں 1890 میں جب پنجاب میں نہری نظام تشکیل دیا گیا تو ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی کی ابتدا ہوئی۔

انڈس ریور سسٹم پر بیراج اور ڈیم بنتے رہے اور پانی کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوتی رہیں جس وجہ سے انڈس ڈیلٹا کی رگیں سوکھ گئیں اور جواں سال ڈیلٹا بوڑھا ہوگیا۔ ’دریائے سندھ نے ہی ڈیلٹا بنایا تھا اب جب دریا سوکھ گیا تو سمندر آگے آ گیا ہے۔‘

پاکستان میں دو صوبوں سندھ اور پنجاب میں پانی کے تقسیم پر تنازع رہا ہے۔

ماہرین اور سندھ حکومت کا مطالبہ رہا ہے کہ ڈاؤن سٹریم کوٹری میں کم سے کم 30 ملین ایکڑ فٹ پانی کا بہاؤ ہونا چاہیے تاکہ انڈس ڈیلٹا زندہ رہے لیکن 1991 میں ایک غیر مقبول فیصلے کے تحت دس ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑ پر اتفاق کیا گیا لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

 جب پنجاب میں نہری نظام تشکیل دیا گیا تو ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی کی ابتدا ہوئی۔
،تصویر کا کیپشن جب پنجاب میں نہری نظام تشکیل دیا گیا تو ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی کی ابتدا ہوئی۔

محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ 1986 تک بھی ضلع ٹھٹہ کے اس ساحلی علاقے میں صورتحال اس قدر ابتر نہیں تھی۔ ’یہاں فروٹ فارم تھے، گندم اور چاول کی کاشت کی جاتی تھی لیکن اب یہ سب کچھ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔‘

ارضیاتی ماہر اور سندھ یونیورسٹی کے ٹھٹہ کیمپس کے پرو وائس چانسلر پروفیسر سرفراز سولنگی زمین سمندر دوز ہونے پر تحقیق کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 1979 اور 2015 کی سیٹلائیٹ تصاویر کے مشاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بڑی اراضی سمندر نگل گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دریا کا پانی اور اس کے ساتھ ریت نہیں آرہی جو سمندر کو پیچھے دھکیلتے تھے۔

دریائے سندھ کا پانی 17 کھاڑیوں کے ذریعے بحیرۂ عرب میں جاتا تھا۔ پروفیسر سرفرار سولنگی کے مطابق دریا میں پانی کی مقدار انتہائی کم ہوگئی اور نتیجے میں سمندر نے کٹاؤ کیا جو کھاڑی دو کلومیٹر چوڑی تھی اب وہ تین سے چار کلومیٹر تک پھیل گئی ہیں اور ان میں سمندر کا پانی داخل ہو چکا ہے۔

پاکستان فشر فوک فورم کی تحقیق کے مطابق سمندر ٹھٹہ اور بدین کی 35 لاکھ ایکڑ زرعی زمین نگل چکا ہے، اس کے علاوہ ہزاروں گاؤں ویران ہوگئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے کراچی کے ریڑھی گوٹھ اور ابراہیم حیدری بستی کا رخ کیا ہے۔

دریائے کا تازہ پانی سمندر میں نہ گرنے کی وجہ سے ماہی گیری بھی متاثر ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشندریائے کا تازہ پانی سمندر میں نہ گرنے کی وجہ سے ماہی گیری بھی متاثر ہوئی ہے۔

تنظیم کے سربراہ محمد علی شاہ کے مطابق انڈس ڈیلٹا ویران ہونے سے یہاں کی روایت، ثقافت بھی دم توڑ رہی ہیں اور اس علاقے میں جو جانور اور پرندے پائے جاتے تھے اب ناپید ہوچکے ہیں۔

زمین کے باہر اور اندر دونوں میں ہی پانی کھارا ہے، محمد نواز نامی ایک ماہی گیر نے بتایا کہ انہیں تین سے چار ہزار رپے میں پانی کا ٹینکر منگوانا پڑتا ہے۔

’پانی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں جانور بھی پال نہیں سکتے۔ جب بھی مہمان آتے ہیں تو شرم محسوس ہوتا ہے مجبوری میں انہیں خشک دودھ کی چائے پلاتے ہیں۔‘

دریائے کا تازہ پانی سمندر میں نہ گرنے کی وجہ سے ماہی گیری بھی متاثر ہوئی ہے۔

محمد علی شاہ کے مطابق ہزاروں لوگ کاشت کاری چھوڑ کر ماہی گیری کی جانب آئے مگر اب قریبی پانی میں مچھلی موجود نہیں۔ ’دو سال سے قحط ہے، گہرے سمندر میں بڑے ٹرالر پوری مچھلی لے جاتے ہیں اگر ماہی گیر آگے جائیں تو بھارتی نیوی گرفتار کر لیتی ہے۔‘

 کشمیر اور پنجاب سے پانی آتا تھا، اب جب وہاں پانی زیادہ ہوتا ہے تو چھوڑتے ہیں ورنہ پانی چابی سے بند ہے: عبدالرحمان
،تصویر کا کیپشن کشمیر اور پنجاب سے پانی آتا تھا، اب جب وہاں پانی زیادہ ہوتا ہے تو چھوڑتے ہیں ورنہ پانی چابی سے بند ہے: عبدالرحمان

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ نے بھی بپھرے ہوئے سمندر کی پیش قدمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور سینیٹ کی سائنس و ٹیکنالوجی کی قائمہ کمیٹی نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے مقامی اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو صورتحال کا جائزہ لے اور تجاویز پیش کرے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ اس کمیٹی کے سرگرم رکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2050 سے 2060 تک سمندر ٹھٹہ، بدین اور کراچی کا حشر خراب کر سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی درخواست پر کمیٹی کے اجلاس میں محکمہ موسمیات ، اوشینو گرافی ، محکمہ ارضیات اور واٹر اینڈ پاور اتھارٹی سے حکام نے شرکت کی اور تصدیق کی کہ ٹھٹہ اور بدین اضلاع کے بعد کراچی کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے کیونکہ ملیر ضلعے کی زمین سمندر نگلنا کر چکا ہے۔

ڈاکٹر کریم خواجہ کے مطابق اگر سمندر کے کٹاؤ کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں تو صورتحال قابو میں آ سکتی ہے۔ ان کے خیال میں جس طرح دریا کے ساتھ بند بنائے جاتے ہیں اس طرح دیوار تعمیر کرنے کے علاوہ ڈاؤن سٹریم میں پانی کا بہاؤ برقرار رکھا جانا چاہیے۔