دریائے سندھ کے لیے پیدل مارچ

    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی ماہی گیروں کی ایک جماعت نے دریائے سندھ میں پانی کی کمی اور آبی ذخیروں کو ختم کرنے کا مطالبہ منوانے کے لیے پیدل لانگ مارچ شروع کیا ہے۔

مارچ
،تصویر کا کیپشنپاکستان فشر فوک فورم کا پیدل مارچ ضلع ٹھٹھ کی حدود میں سے گزر رہا ہے

پاکستان فشر فوک فورم کا پیدل مارچ ضلع ٹھٹھ کی حدود میں سے گزر رہا ہے۔ جس میں درجنوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

پاکستان فشر فوک فورم کے سربراہ محمد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قلت آب کی وجہ سے انڈس ڈیلٹا تباہ ہوچکا ہے اور ضلع ٹھٹھ کی تئیس لاکھ ایکٹر زمین زیر سمندر آگئی ہے۔ جب کہ اسی ایکڑ یومیہ زمین سمندر کے زیر اثر آ رہی ہے۔

پاکستان فشر فوک فورم کے سربراہ کے مطابق ان کی جماعت نے دو مارچ سے پیدل مارچ ضلع دریائے سندھ اور سمند ر کے سنگم کی کریک سے شروع کیا ہے۔ جو گیارہ دن کا پیدل سفر طے کرنے کے بعد تیرہ مارچ کو جامشورو میں دریائے سندھ کے کنارے المنظر پر پہنچے گا۔ جہاں دریاؤں کے عالمی دن کے موقع پر جسلہ عام ہوگا اور پانی کی کمی کے مسائل پر بات کی جائیگی۔

ماہی گیروں کی جماعت کے مطابق ان کا مطالبہ ہے کہ آبی ذخیروں کو ختم کرنے کا عالمی رجحان شروع ہو چکا ہے لہذا پاکستان میں بڑے ڈیموں کو ختم کرنے کی ابتدا تربیلا ڈیم سے کی جائے اور تربیلا ڈیم کو ختم کیا جائے۔

پاکستان فشر فوک فورم کے پیدل مارچ میں سینکڑوں کارکنان شریک ہیں جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ ضلع ٹھٹھہ کے مرکزی شہر میں اتوار کو جب پیدل مارچ پہنچا تو حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر لشکری رئیسانی بھی مارچ میں شامل ہوگئے۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ انڈس ڈیلٹا کے لیے جامع رپورٹ سینیٹ میں پیش کریں گے۔

پاکستان فشر فوک فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ دریائے سندھ میں آبی معاہدے انیس سو اکانوے کے مطابق کوٹری سے آگے پینتیس ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کیا جائے۔ تربیلا ڈیم کو ختم کیا جائے اور انڈس ڈیلٹا کی بحالی کے لیے اقدام کیے جائیں۔