سندھ اور سمندر میں زمین کی جنگ

- مصنف, نثار کھوکھر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
جموں کشمیر کے علاقے لداخ سے اپنا سفر شروع کرنے والے دریائے سندھ کو سمندر تک پہنچنے میں تین ہزار ایک سو اسی کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔مگر انڈس ڈیلٹا کے کیٹی بندر میں اب دریا کا پانی برسوں سے نہیں پہنچا۔
کیٹی بندر کراچی سے دو سو کلومیٹر دور ہے مگر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا کا یہ ساتواں بڑا ڈیلٹا تیزی سے زیر سمندر آرہا ہے۔ کیٹی بندر میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی غیرسرکاری تنظیموں کا کہنا ہےکہ سمندر روزانہ اسی ایکڑ زرعی زمین اپنے زیراثر کر رہا ہے اور نقل مکانی برسوں سے جاری ہے۔
کیٹی بندر پاکستان کے سب سے بڑے انڈس ڈیلٹا کی اس تحصیل کا نام ہے جو تیزی سے سمندر کے نمکین پانیوں کے حوالے ہو رہی ہے۔ کیٹی بندر دنیا کے ساتویں بڑے ڈیلٹا کا درجہ ضرور رکھتا ہے مگر مقامی لوگوں کے مطابق دریائے سندھ کا پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے سمندر آگے بڑھ رہا ہے اور ان کی وہ زرعی زمین زیر آب آگئی ہے جہاں وہ چاولوں کی کاشت کیا کرتے تھے۔
گلاب شاہ کی عمر پنتیس برس ہے اور وہ کیٹی بندر سے ہجرت کرگئے ہیں۔مگر گلاب شاہ کا کہنا ہے کہ جب وہ کیٹی بندر کو دوبارہ دیکھتے ہیں تو ان کا دل دکھتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ زمینیں جہاں ہری بھری فصلیں لہراتی تھیں وہاں آج سمندر کا پانی لہریں مار رہا ہے۔اور ایسے مناظر وہ دیکھنا پسند نہیں کرتے۔
دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے تحفظ کی خاطر سفارشات مرتب کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی الگ الگ قائمہ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو ساحلی علاقے کا دورہ کرچکی ہیں۔مگر عملی اقدامات تاحال شروع نہ ہوسکے ہیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق سمندر روزانہ اسی ایکڑ زمین اپنے زیر اثر لار ہا ہے اور تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سائٹ مینیجر زاہد جلبانی کے مطابق کیٹی بندر پر ماحولیاتی تبدیلی کے برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پتہ نہیں کتنی تعداد میں لوگ علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں مگر ماحول پر جو اثر ہوا ہے اس ضمن میں اسی ایکڑ زمین روزانہ سمندر کے زیر اثر آرہی ہے اور جو قدیم مینگروو یا تمر کے جنگلات تھے وہ تباہ ہو رہے ہیں۔اس وجہ سے بھی غربت میں اضافہ ہورہا ہے اور لوگوں کے مال مویشی مر رہے ہیں۔
حکومتی اور غیر سرکاری تنظیموں کی مرتب کردہ مختلف رپورٹوں کے مطابق ضلع ٹھٹھ کی دو ساحلی تحصیل کیٹی بندر اور سامارو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ریونیو ریکارڈ کے مطابق دونوں تحصیلوں کی اسی سے زیادہ دیہیں تھیں جن کی اکثریت نمکین پانی کے نظر ہوگئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

کیٹی بندر کے مہاجرین میں شفیع مرگر بھی شامل ہیں جو دو مرتبہ نقل مکانی کرچکے ہیں اور تیسری بار نقل مکانی کی تیاری کر رہے ہیں۔
شفیع مرگر کا کہنا ہے کہ کیٹی بندر میں ہزاروں ایکڑ ان کی آبائی زرعی زمین تھی جو سمندر کی نظر ہونے کے بعد وہ سامارو پہنچے مگر سمندری پانی نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور انہیں وہاں سے بھی نقل مکانی کرنی پڑ رہی ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی انڈس ڈیلٹا کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ملک کے اندر صوبوں میں پانی تقسیم کے نظام کوبھی مورد الزام ٹھراتے ہیں۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ انڈس ڈیلٹا تک دریاء سندھ کا میٹھا پانی چھوڑنا پانی کا ضیاع ہے مگر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے نمائندے زاہد کا کہنا ہے کہ یہ ضیاع نہیں ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رامسر کنوینش کے تحت انڈس ڈیلٹا کا تحفظ ہمارا فرض ہے کیونکہ پاکستان نے رامسر کنوینشن پر دستخط کیے ہیں۔وہاں پرندوں، مچھلی، مینگروو اور لوگوں کی حیات کا تحفظ کرنے کے لیےدریائے سندھ کا پانی ضروری ہے۔یہ پانی کا ضیاع نہیں ماحولیات کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب حکومت سندھ کے مقامی نمائندے ضلع رابطہ افسر ٹھٹھ منظور احمد شیخ کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی انڈس ڈیلٹا کی تباہی کی بڑی وجہ ہے۔ڈی سی او کے مطابق یہ اتنا بڑا معاملہ ہے کہ ہم تنہا یا حکومت سندھ اس کا تحفظ نہیں کر سکتے۔اس لیے حکومت سندھ کئی دہائیوں سے پانی کے حصے کے لیے کیس لڑ رہی ہے۔
ضلعی رابطہ افسر کے مطابق عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دس ہزار کیوسک پانی روزانہ کوٹری سے آگے انڈس ڈیلٹا تک جانا چاہیے۔جبکہ آئی یو سی این کے مطابق مینگروو کے تحفظ کے لیے ستائیس ملین ایکڑ فوٹ پانی کی ضرورت ہے۔مگر یہ کام ضلعی یا صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں ۔
بعض آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیٹی بندر میں انڈس ڈیلٹا کے تحفظ کے لیے حکومتی سطح پر کام شروع نہ کیا گیا تو سمندر اپنا رخ ضلع کے بڑے شہروں ٹھٹہ اور سجاول تک پہنچا سکتا ہے اور بعد میں سمندر کو روکنا مشکل ہوجائیگا۔







