گلگت: مفرور قیدی پولیس کا محاصرہ توڑنے میں کامیاب، تلاش جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ ضلعی جیل سے فرار ہونے والے دو قیدیوں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
پولیس کے مطابق یہ دونوں قیدی سنیچر کی شب میناور کے علاقے میں پولیس کا محاصرہ توڑنے میں کامیاب رہے ہیں اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں مقامی تھانے کے ایس ایچ او زخمی بھی ہوئے ہیں۔
جمعرات کی شب ڈسٹرکٹ جیل سے فرار ہونے والے دو قیدیوں میں سے ایک کا تعلق نانگا پربت حملہ کیس سے تھا جس میں ایک دس غیر ملکی سیاح اور ایک پاکستانی ہلاک ہوئے تھے۔
گلگت کے تھانہ جٹیال کے ایچ ایس او عبدالہادی نے اتوار کو بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس وقت ایس ایس پی گلگت کی سربراہی میں شہر کے مضافات میں پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سنیچر کی شب پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ مفرور قیدی شہر کے مضافاتی علاقے میناور میں چھپے ہوئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس اطلاع پر ’میناور میں جٹیال اور دنیور تھانے کی پولیس کی پارٹی ایس ایچ اوز کی سربراہی میں شب نو بجے دینا پور گئی۔ وہاں اندھیرا تھا، جگہ کھلی تھی، سرچ آپریشن کیا تو فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔‘
عبدالہادی کے مطابق فائرنگ کے دوران ایس ایچ او کو بازو پرگولی لگی جبکہ مفرور ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس کا گھیرا توڑ کر دریا کے کنارے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سنیچر کو ہونے والے سرچ آپریشن میں شرکت کرنے والے عبدالہادی کا کہنا تھا کہ اب اتوار کی صبح سے ایس ایس پی اسحاق کی سربراہی میں گلگت کے مضافاتی علاقے جگلوٹ میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ مفرور قیدیوں کو حراست میں لے لیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے مطابق جگلوٹ اور میناور ڈسٹرکٹ جیل سے 30 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں اور قیدیوں کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے پولیس نے تمام خارجی راستوں کو دو روز تک بند رکھا تاہم اب راستے کھول کر ان کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ سنیچر کو ہی پولیس حکام نے گلگت جیل سے قیدیوں کے فرار میں مدد دینے کے الزام میں جیل کے دس اہلکاروں سمیت 13 افراد کو حراست میں لیا تھا۔
خیال رہے کہ جمعرات کو فرار کی کوشش کرنے والے چار قیدیوں میں سے ایک کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ ایک قیدی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوگیا تھا۔
ہلاک ہونے والا قیدی حضرت بلال اور مفرور قیدیوں میں سے ایک حبیب الرحمان 23 جون 2013 کو ضلع دیامر کے صدر مقام چلاس کے قریب نانگا پربت کے بیس کیمپ پر حملے کے ملزم تھے۔
اس حملے میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو گلگت سکاؤٹس کی وردیوں میں ملبوس تقریباً بارہ مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
ہلاک ہونے والوں میں یوکرین، چین، امریکہ اور روس کے شہری شامل تھے اور تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔







