چلاس: تحریک طالبان کے دو ارکان گرفتار

پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں حملہ آوروں نے گزشتہ ماہ ایک حملے میں ضلع دیامیر کے ایس ایس پی محمد ہلال، پاکستان فوج کے ایک کرنل اور ایک کیپٹن کو ہلاک کر دیا تھا
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں حملہ آوروں نے گزشتہ ماہ ایک حملے میں ضلع دیامیر کے ایس ایس پی محمد ہلال، پاکستان فوج کے ایک کرنل اور ایک کیپٹن کو ہلاک کر دیا تھا

پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں پولیس نے تین سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کیس میں تحریک طالبان کے دو ارکان کو گرفتار کیا ہے۔

یہ سکیورٹی اہلکار رواں سال 23 جون کو گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کے قتل کے واقعے کی تفتیش کر رہے تھے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی سے بات کرتے ہوئے ضلع دیامیر کے ایس پی محمد نوید نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کی اور بتایا ’ہم نے ایس ایس پی کی گاڑی پر حملہ کرنے والے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے‘۔

اس حملے میں ایس ایس پی سمیت فوج کے ایک کرنل اور کیپٹن بھی ہلاک ہوئے تھے۔

ایس پی محمد نوید کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ضلع دیامیر کے بابوسر پوائنٹ پر دو حملہ آور چھپے ہوئے ہیں۔ پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر ان افراد کو گرفتار کیا‘۔

ایس پی نے ان افراد کے نام محمد نبی اور قریب اللہ بتائے ہیں۔ ان کے مطابق محمد نبی نے یہ حملہ کیا اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قریب اللہ نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی اور اس کے پاس اس واقعے کے بارے میں بہت سی معلومات ہیں۔

ایس پی محمد نوید کے مطابق یہ افراد ضلعے میں دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں حملہ آوروں نے گزشتہ ماہ ایک حملے میں ضلع دیامیر کے ایس ایس پی محمد ہلال، پاکستان فوج کے ایک کرنل اور ایک کیپٹن کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس سے پہلے پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں نامعلوم افراد نے دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

یہ واقعہ ضلع دیامر کے صدر مقام چلاس کے قریب بونردیامروی نانگا پربت بیس کیمپ میں رواں برس 23 جون کو پیش آیا تھا۔