اہلکار کو ’ہراساں‘ کرنے پر بنگلہ دیش کے لیے پی آئی اے کی پروازیں معطل

بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفر کے لیے زمینی یا بحری نہیں صرف فضائی راستہ ہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفر کے لیے زمینی یا بحری نہیں صرف فضائی راستہ ہی ہے۔
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے نے بنگلہ دیش میں اپنے اعلیٰ اہلکار کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر احتجاجاً بنگلہ دیش کے لیے پروازوں کا سلسلہ معطل کر دیا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان رفیق زرداری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پروازیں معطل کرنے کے فیصلے کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ ہفتے میں بنگلہ دیش کے لیے پاکستان سے پانچ پروازیں جاتی تھیں جنھیں دس مارچ تک کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

ڈھاکا میں پی آئی اے کے کنٹری مینیجر علی عباس کو مبینہ طور پر بنگلہ دیش کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہراساں کیا تھا، جس کے بعد وہ وطن واپس آ گئے ہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق اس تمام صورتحال سے وزرات خارجہ کو آگاہ کیا گیا ہے اور دس مارچ کے بعد پروازیں بحال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ حکومت کرے گی۔

خیال رہے کہ جمعرات کو پاکستان کی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اس واقعے پر بات کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے اس معاملے پر بنگلہ دیشی حکام سے بات کی ہے تاہم ابھی تک اس بارے میں مزید پیش رفت نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفر کے لیے زمینی یا بحری نہیں صرف فضائی راستہ ہی ہے۔