سفارت کار کی بے دخلی افسوس ناک پیش رفت ہے: دفتر خارجہ

،تصویر کا ذریعہ
پاکستان نے ایک سفارت کار کی بنگلہ دیش سے بےدخلی کو افسوس ناک واقعہ قرار دیا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ تسنیم اسلم نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ’ہمارے ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو 27 جنوری 2015 کو بنگلہ دیش سے نکل جانے کو کہا گیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نظر میں یہ ایک افسوسناک پیش رفت ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں تعینات ایک پاکستانی سفارتکار کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آنے کے بعد انھیں پاکستانی وزراتِ خارجہ نے واپس بلا لیا ہے۔
بنگلہ دیشی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اس سفارتکار پر دہشت گردی کے لیے پیسہ فراہم کرنے اور بنگلہ دیش میں جعلی کرنسی کا ریکٹ چلانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
بنگلہ دیش کے بڑے اخبار ڈیلی سٹار نے وزارت خارجہ کے حکام کے حوالے سے کہا کہ ’یہ سفارتکار جن کا نام محمد مظہر خان بتایا گیا ہے، پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے لیے بھی کام کر رہے تھے۔‘
پاکستان کے اخبار ڈیلی ڈان نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے حوالے سے اس سفارتکار کے بنگلہ دیش سے پاکستان پہنچ جانے کی تصدیق کی ہے۔
ڈان اخبار کی ویب سائٹ کے مطابق تسنیم اسلم نے بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے پاکستانی سفارتکار کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیلی سٹار کے مطابق بنگلہ دیشی حکام نے پاکستانی وزارتِ خارجہ سے کہا تھا کہ بجائے اس کے کہ مذکورہ سفارت کو بنگلہ دیش سے نکلا جائے، پاکستانی حکومت خود ہی ان کو واپس بلا لیں۔
اخبار کے مطابق بنگلہ دیشی دفتر خارجہ نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ انھوں نے پاکستانی دفتر خارجہ سے اس سفارتکار کو واپس بلا لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ دفتر خارجہ میں اس بات پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ اتنے سنگین الزامات لگائے جانے کے بعد کیوں اس سفارتکار کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا اور کیوں انھیں سفارتی طور پر ’پرسنونا نان گراٹا‘ یا ناپسندیدہ شخصیت نہیں قرار دیا گیا۔
پاکستان کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ انھیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر بنگلہ دیش سے نکالا گیا ہے۔







