’اکیلی آواز اٹھےگی تو کوئی نہیں سنے گا‘

- مصنف, نوشین عباس
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
’میرے بچے نے کلاس لینی تھی لیکن فیس نہ ہونے کی وجہ اسے نہیں لیا گیا۔‘
یہ کہنا ہے لاہور سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازمہ سمیرا کا جو کئی گھروں میں ہر قسم کا کام کاج کرتی ہیں لیکن اتنی محنت کرنے کے باوجود ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ اپنے بیٹے کو سکول بھیج سکیں۔
یہ ایک معمول کی کہانی ہے۔ پاکستان میں عام گھریلو ملازمین جہاں جانتے ہیں کہ وہ اپنی اگلی نسل کی زندگیاں بہتر بنانے میں ناکام ہیں وہیں انھیں یہ خدشہ بھی ہوتا ہے کہ ان کے بچے بھی یہی پیشہ اپنانے پر مجبور ہوں گے اور ستم ظریفی یہ کہ پاکستان میں گھریلو کام کو تو پیشہ شمار ہی نہیں کیا جاتا۔
یہ گھریلو ملازمین ملک کی غیر درج شدہ معیشت کا حصہ ہیں جو پاکستانی معیشت کا تقریباً 70 فیصد بنتی ہے۔
پاکستان میں گھریلو ملازمین کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں طویل اوقات کار، ملازمت کا عدم تحفظ، کم عمر بچوں سے جبراً مشقت لینا اور ان کے ساتھ زیاتیوں کے واقعات، جو عام طور پر تو رپورٹ نہیں ہوتے، شامل ہیں۔
لیکن اب اس صورتحال میں ایسے گھریلو ملازمین کے لیے امید کی ایک ہلکی سی کرن پھوٹی ہے اور یہ کرن لاہور میں پاکستان میں گھریلو ملازمین کی پہلی یونین ہے۔
اس یونین کی نائب صدر شمشاد خود ایک گھریلو ملازمہ ہیں اور وہ ان زیادتیوں سے پوری طرح آگاہ ہیں جن کا سامنا ملازمین کو باقاعدگی سے کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر اکیلے اکیلے آواز اٹھائیں گے تو کوئی نہیں سنے گا لیکن جب ہم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے تو ہماری آواز سنیں گے بھی اور کام بھی ہوگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’گھریلو ملازمین کو صحت کی سہولیات دی جائیں اور ان سے جو کام کرایا جا رہا ہے اس کے بدلے کم از کم بنیادی تنخواہ تو دی جائے۔‘
اس سلسلے میں محکمۂ محنت و افرادی قوت کے سیکریٹری عشرت علی کا کہنا ہے کہ تبدیلی بس آنے ہی والی ہے اور گھریلو ملازمت کو تحفظ فراہم کیا جائےگا۔
’دو سال میں قانون ہو گا اب پالیسی ڈرافٹ تیار ہوگیا ہے۔ ان کی رجسٹریشن کا کیا عمل ہو گا، ان کی تصدیق ہو سکے گی اور انہیں تحفظ دیا جائےگا۔‘
آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن (اپوا) اپنے ایک منصوبے کے تحت گھریلو ملازمین کی تربیت کا انتظام کرتی ہے تاکہ وہ پیشہ ورانہ طریقے سے ملازمت حاصل کر سکیں۔

اس تنظیم کی پروجیکٹ مینجر درِ شہوار کہتی ہیں کہ انٹرنیشنل لیبر اورگنائزیشن کی مدد کے باوجود اس مسئلے کا حل اتنا آسان نہیں جتنا کہ لگتا ہے۔
ان کے مطابق گھریلو ملازمین کو منظم کرنا بہت بڑا چیلنج ہے اور ایسے ملازمین کی ایک قابلِ ذکر تعداد یونین بازی کے حق میں بھی نہیں: ’وہ کسی نظام یا معاہدے کے پابند نہیں ہونا چاہتے بلکہ بغیر لکھت پڑھت کے کام کرنا چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ تبدیلی چند دنوں کے اندر تو نہیں آئے گی لیکن مستقبل میں بہتری کی کافی امید ہے۔
گھریلو ملازمین کی جانب سے اپنی ہی یونین کی مخالفت پر بات کرتے ہوئے پاکستان ورکرز فیڈریشن کے سربراہ چوہدری نسیم کا کہنا ہے کہ ’ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں پوری آبادی کا صرف پانچ فیصد کسی یونین کا حصہ ہیں اس لیے اس کی مخالفت تو متوقع ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’اس تنظیم کا اطلاق دیہی علاقوں میں تو ہوگا ہی نہیں لیکن پھر بھی اس یونین کو بارش کا پہلا قطرہ ہی سمجھیں۔‘
پاکستان میں آئی ایل او کے سربراہ فرانچیسکو ڈی اوڈیو کہتے ہیں کہ یہ بڑا امید افزا زمانہ ہے لیکن ’یونین کا قیام تو ملازمین کی جانب سے اپنے آپ کو منظم کرنے کا عمل ہے، قوانین پر عمل درآمد کرانا تو حکومت کا کام ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پہلا بڑا چیلنج تو اس جمود کو توڑنے کا ہے اور ثقافتی رویوں کو بدلنے کے ساتھ ساتھ ملازمین کو ان کی شناخت اور ان کے حقوق سے آگاہی دلانی ہوگی۔ ابھی یہ یونین ایک علامتی کامیابی ہے۔ اس کو اب فروغ دینا ہوگا۔‘
فی الحال تو پاکستان میں گھریلو ملازمین کی یہ یونین ایک علامتی قدم ہے لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے وقت میں یہ ان لاکھوں ملازمین کی آواز بنے گی جن کے کام کو آج بھی پیشہ نہیں مانا جاتا۔







