’گھریلو تشدد کا بل مغربی سوچ کا عکاس‘

ایک رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار دس کے مقابلے میں سنہ دو ہزار گیارہ میں پاکستانی خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایک رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار دس کے مقابلے میں سنہ دو ہزار گیارہ میں پاکستانی خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں گھریلو تشدد کے خلاف مجوزہ قانون کے مسودے کو جمیعت علماء اسلام نے مغربی سوچ کا عکاس قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

ادھر خواتین کے حقوق کی مختلف تنظیموں نےمولانا فضل الرحمٰن کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

جمعے کے روز پارلیمنٹ کی عمارت کے کمیٹی روم میں پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے نمائندے بل کے مسودے پر غور کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے کہ اچانک خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائدے کمیٹی روم میں داخل ہوگئے۔

اس موقع پر این جی اوز کی خواتین اور مولانا فضل الرحمٰن میں گرما گرمی ہوئی اور جمیعت علماء اسلام نے مشاورتی اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔

اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ (ن) سمیت باقی جماعتوں نے گھریلو تشدد روکنے کے لیے مجوزہ بل کے مسودے میں کچھ ترامیم کر کے اُسے منظور کرنے کی حمایت کی ہے۔

بل پر مزید غور پیر کو ہوگا جس کے بعد اُسے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق پیپلز پارٹی کی یاسمین رحمٰن کا تیار کردہ یہ بل جمعرات کو پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش ہوا تو جمیعت علماء اسلام (ف) نے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنےکا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس میں کافی سکُم ہیں جو دور ہونے چاہیے۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے بھی کہا کہ اس پر مشاورت ہونی چاہیے اور عجلت میں منظور نہ کریں۔

حکومت کی جانب سے چیف وہپ اور مذہبی امور کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے تمام جماعتوں کا جمعہ کو مشاروتی اجلاس بلایا جس میں کئی نکات میں تبدیلی پر اتفاق ہوا لیکن جب مولانا فضل الرحمٰن نے بل کی مخالفت کی تو این جی اوز کی خواتین کمیٹی روم میں داخل ہوگئیں تو مزید کارروائی پیر تک ملتوی کردی گئی۔

بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی بل ہے جو بھارت نے سنہ دو ہزار پانچ میں منظور کیا تھا۔ ان کے بقول اگر یہ بل منظور ہوا تو پاکستان میں گھریلو زندگی باقی نہیں رہے گی۔

ان کے مطابق جوان لڑکیوں اور لڑکوں کو گھر دیر سے آنے یا گھر سے رات کو دیر سے باہر جانے پر والد کو روکنے کی اجازت نہیں ہوگی اور ایسا کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشرقی اور اسلامی زندگی کے خلاف ہے اور پاکستانی معاشرے کے اقدار مغرب یا بھارت سے مختلف ہیں۔

وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ تمام جماعتوں نے مثبت سوچ ظاہر کی ہے۔ ان کے بقول بل کے مسودے میں کچھ قباحتیں تھیں اور اگر جمعرات کو منظور ہوجاتا تو کافی مسائل پیدا ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل بھارت منظور کرچکا ہے تو کوئی بھی ملک کسی ملک کے قانون سے استفادہ کرسکتا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت یہ بل منظور کروائے گی لیکن این جی اوز سے ڈکٹیشن نہیں لے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گھریلو تشدد روکنے کے لیے سب جماعتوں کی سوچ ملتی ہے لیکن پارلیمان سے باہر بیٹھے لوگ پارلیمان پر اثر انداز نہ ہوں۔ ان کے بقول پارلیمان کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ متحدہ قومی موومینٹ کے حیدر عباس رضوی نے بھی سعد رفیق کی تائید کی۔

بعد میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی اراکین نے پارلیمان کے سامنے بل کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف نعرے لگائے۔ جبکہ کچھ دیر بعد مولانا فضل الرحمٰن کی حامی بعض برقعہ پوش خواتین بھی وہاں پہنچ گئیں اور انہوں نے بل کی حمایت اور مولانا فضل الرحمٰن کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف نعرے لگائے۔ کچھ دیر بعد مظاہرین خود ہی منتشر ہوگئے۔