اسلام آباد میں گھریلو تشدد ممنوع

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں گزشتہ روز منظور کیے جانے والے گھریلو تشدد پر سخت سزاؤں کے بل میں شریک حیات کا مذاق اڑانے یا توہین کرنے اور اولاد کی خاطر مردوں کی دوسری شادی کو بھی قابل سزا جرائم میں شامل کیا گیا ہے۔
تاہم بل میں اس کی وضاحت نہیں ہے کہ مردانہ بانجھ پن کے عذر پر خواتین کی دوسری شادی بھی جرم ہوگی یا نہیں۔
سینیٹ میں یہ بل گزشتہ رات عجلت میں منظور کیا گیا تھا اور قانون بننے کی صورت میں یہ صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر لاگو ہوگا۔
اس بل کے مطابق خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور لوگوں کو گھریلو تشدد سے تحفظ دینا ہے اور اس کے تحت مار پیٹ، دھمکی دینا، شریک حیات پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کا الزام لگانا، طلاق کی دھمکی دینا، توہین کرنا یا مذاق اڑانا، بدخواہی پر قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دینا، غلط طور پر پاگل پن کا الزام لگانا، شریک حیات کے بانجھ پن کی وجہ سے دوسری شادی کرنے اور خواتین کی کردار کشی کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔
اس بل کے مطابق ہراساں کرنے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے اور اس کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ دھمکی آمیز اشارہ کرنا، بیہودہ فون کالز کرنا یا کرانا، خط، ٹیلی گرام، پیکیجز، فیکس یا برقی پیغامات بھیجنا بھی جرم تصور ہوگا۔ کسی کی مرضی کے خلاف اکڑنا، خاندان کے کسی فرد کے خلاف جنسی تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنا، غلط انداز میں قید رکھنا، معاشی طور پر ہراساں کرنا بھی جرم ہوگا۔
یہ بل قانون نجی کارروائی کے دن یعنی پیر کو سینیٹ نے عجلت میں منظور کیا اور اُسے کمیٹی کے پاس بھی نہیں بھیجا گیا۔
اس بل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جرم کی سزا کیا ہوگی لیکن یہ لکھا گیا ہے کہ عدالت کا عبوری حکم اور پروٹیکشن آرڈر کی پہلی خلاف ورزی پر چھ ماہ تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکے گا اور دوسری بار جرم کی صورت میں دو سال تک قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔
اس طرح کے مقدمات قریبی پولیس سٹیشن میں درج ہوں گے، درجہ اول مجسٹریٹ مقدمات سنیں گے اور درخواست دائر ہونے کے سات روز کے اندر سماعت ہوگی۔ اندر جس شخص کے خلاف شکایت ہوگی عدالت سات روز میں ان سے جواب طلب کرے گی اور کسی بھی وقت عدالت عبوری ریلیف دے سکے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کو اختیار ہے کہ شکایت کنندگاں کو تحفظ دینے اور ان کے اخراجات پورے کرنے سمیت کسی بھی معاملے میں دوران سماعت حکم دے سکتی ہے اور مقدمے کا فیصلہ ہونے تک رقم کورٹ کی تحویل میں رکھی جاسکے گی۔
بل کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر والے کو بچہ تصور کیا جائے گا اور اگر کسی بچے پر جنسی تشدد کا معاملہ ہو تو متعلقہ بچے کو قریبی رشتہ دار، درخواست گزار فرد یا ادارے کے حوالے کیا جائے گا۔ اس دوران ملزم کی ان سے ملاقات پر پابندی ہوگی۔
بل کے تحت ‘پروٹیکشن کمیٹی’ بنانا حکومت پر لازم ہوگا اور اس کمیٹی میں میڈیکل ڈاکٹر، ماہر نفسیات/ سماجی ورکر، عدالت کے مقرر کردہ افسر، سب انسپکٹر کے عہدے کی خاتون پولیس افسر، سول سوسائٹی کی دو خواتین اور پروٹیکشن افسر اراکین ہوں گے۔
یہ کمیٹی اس قانون میں وضح کردہ جرائم کا شکار افراد کو قانونی حقوق کے بارے میں آگہی اور انصاف کے حصول میں مدد کرے گی اور اس کا مکمل ریکارڈ رکھے گی۔
حکومت اس قانون کی منظوری کے چھ ماہ کے اندر قوائد و ضوابط وضح کرنےکی پابند ہوگی۔ اگر کوئی قانونی پیچیدگی پیدا ہو وفاقی حکومت اُسے دور کرے گی۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ق) کی سینیٹر نیلو فر بختیار نے اپنی چھ سالہ سینٹیرشپ ختم ہونے سے پہلے یہ بل پیش کیا اور بھرپور اصرار کیا کہ اُسے فوری طور پر منظور کیا جائے۔ ان کی حامی بعض خواتین نے بل کی فوری منظوری کے حق میں پارلیمان کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔ ماضی میں ایسا شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ کسی رکن کی نجی بل کمیٹی میں غور کیے بنا منظور کیا گیا ہو۔







