کراچی: دس سالہ گھریلو ملازم چھٹی منزل سے ’گر‘ کر زخمی

سجن
،تصویر کا کیپشنہریش کے ساتھ ان کا 15 سالہ چچا زاد بھائی ساجن بھاٹ بھی کام کرتا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک دس سالہ گھریلو ملازم ہریش بھاٹ چھ منزلہ عمارت سے گرنے کے باعث شدید زخمی ہوگیا ہے۔

ہریش کے رشتے داروں کا الزام ہے کہ ہریش پر مالک نے تشدد کیا اور فلیٹ کی چھٹی منزل سے نیچے دھکا دے دیا۔ تاہم مالکان کا کہنا ہے کہ اس نے خوف کے مارے عمارت سے چھلانگ لگا دی ہے۔

ہریش جناح ہسپتال کے سپائنل ایمرجنسی شعبے میں زیر علاج ہیں۔ میڈیکل لیگل افسر ڈاکٹر منظور کا کہنا ہے کہ جب بچہ لایا گیا تھا تو وہ سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے بے ہوش تھا۔

انھوں نے کہا کہ بچے کا سی ٹی سکین اور ایکسرے کیے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت بچے کی طبیعت بہتر ہے اور انھیں جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا۔

ایس پی کلفٹن محمد ندیم کا کہنا ہے کہ پولیس کو میڈیکل لیگو دفتر سے گذشتہ شب واقعے کے بارے میں معلوم ہوا۔ ڈاکٹر منہل اور ان کی بیگم زخمی بچے کے ساتھ موجود تھیں۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹر منہل کلفٹن کے ایک فلیٹ میں رہتے ہیں اور ان کا تعلق جیکب آباد سے ہے۔ ڈاکٹر منہل کا کراچی میں نجی کلینک ہے۔

ایس پی محمد ندیم کے مطابق بچے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس پر تشدد کیا گیا اور چھٹی منزل سے دھکا دیا گیا، جس کے بعد ڈاکٹر منہل کو حراست میں لے لیا گیا۔

سپائنل وارڈ میں موجود ہریش کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا ہے۔

ڈاکٹر منہل نے پولیس کو بتایا کہ ان کے گھر سے ڈیڑھ لاکھ روپے چوری ہوئے تھے اور ہریش نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے یہ رقم چوری کر کے اپنے بھائی کو دے دی ہے۔

ڈاکٹر منہل کے مطابق ہریش کے اعتراف کی ویڈیو ان کے پاس موبائل پر موجود ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے بچے کو کمرے میں بند کر دیا تھا، جہاں کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ اس نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی اور نیچے گر گیا۔

ڈاکٹر منہل نے پولیس کو مزید بتایا ہے کہ وہ چوری کی ایف آئی آر درج کرانا چاہتے تھے لیکن اس سے پہلے یہ واقعہ پیش آگیا۔

سپائنل وارڈ میں زیر علاج دس سالہ ہریش کے ساتھ ان کا 15 سالہ چچا زاد بھائی ساجن بھاٹ بھی کام کرتا ہے۔ ساجن کا کہنا ہے کہ گھر سے آٹھ روز پہلے چوری ہوئی تھی اور ان پر چوری کا الزام منگل کو لگایا گیا:

’اگر ہم کہتے کہ چوری ہم نے نہیں کی تو وہ مارتے، انھوں نے ہریش کا صبح سے کھانا پینا بند کر دیا تھا۔ اس کو تھپڑوں اور لاتوں سے مارا۔ بعد میں اوپر لے گئے جہاں سے دھکا دے دیا۔‘

ساجن اور ہریش کو ڈاکٹر منہل کے پاس ملازمت اختیار کیے ہوئے دو ماہ ہوئے تھے۔ کھانا پکانے، صفائی اور کپڑوں کی دھلائی کے بدلے میں ساجن کو پانچ ہزار اور ہریش کو دو ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی۔

دونوں نوعمر گھریلو ملازمین کا تعلق سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے گاؤں سندھڑی سے ہے۔

ہریش کے چچا مصری بھاٹ نے بتایا کہ دونوں لڑکوں کے والدین کھیتی باڑی کرتے ہیں جس سے گذارہ نہیں ہوتا۔ انھوں نے بتایا کہ بچوں کو یہاں مزدوری کے لیے لگایا تھا تاکہ وہ والدین کی کچھ مدد کرسکیں گے، لیکن یہاں انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے بچے پر مبینہ تشدد کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی ہے۔

جناح ہپستال میں موجود تحریک انصاف کی رکن اسمبلی ڈاکٹر سیما ضیا کا کہنا تھا کہ صوبے میں بچوں سے مشقت پر پابندی عائد کی جائے: ’اگر ضرورت ہو تو ان بچوں کو محکمہ لیبر رجسٹر کرے اور ان کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے کہ وہ کن حالات میں رہتے ہیں۔‘