تلور کے شکار پر پابندی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

 نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے باز کا استعمال کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے باز کا استعمال کیا جاتا ہے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے محکمہ جنگلات نے ہائی کورٹ کی جانب سے نایاب پرندے تلور کے شکار پر پابندی کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں محکمہ داخلہ بلوچستان کے ایک سینئیر اہلکار نے تصدیق کی کہ محکمۂ جنگلات حکومتِ بلوچستان نے سپریم کورٹ میں بلوچستان ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں تلور کے شکار پر پابندی لگائی گئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ سیکریٹری جنگلات نے چند روز قبل ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

یاد رہے کہ ہائی کورٹ نے نومبر 2014 میں اپنے ایک فیصلے میں عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

سینئیر حکومتی اہلکار نے اس خبر کی بھی تصدیق کی کہ پرنس آف تبوک فہد بن عبداللہ بلوچستان پہنچ چکے ہیں: ’وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پرنس آف تبوک کے بلوچستان پہنچنے پر ان کا استقبال کیا۔‘

دو فروری کو محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے ایک سینیئر افسر نے یہ بھی تصدیق کی تھی کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی ضلع چاغی میں سعودی شیخ کے لیے کیمپ قائم کیا گیا ہے۔

عرب شیوخ ایک دن میں 200 سے 300 تلور شکار کرتے ہیں: آئی یو این سی بلوچستان

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنعرب شیوخ ایک دن میں 200 سے 300 تلور شکار کرتے ہیں: آئی یو این سی بلوچستان

خیال رہے کہ ماضی میں چاغی میں عرب شیخ نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے آتے رہے ہیں۔ ہجرت کرنے والا یہ پرندہ اس موسم میں سائبیریا سے بلوچستان کے گرم علاقوں کا رخ کرتا ہے۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 1980 کی دہائی سے خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کی جاتی رہی ہیں۔

اس پرندے کے شکار کے لیے وفاقی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جو پرمٹ جاری کیا جاتا ہے اس کے مطابق کسی بھی علاقے میں عرب شیوخ دس دن کے لیے شکار کر سکتے ہیں۔

ان دس دنوں میں ان کو صرف 100 تلور شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن قدرتی ماحول کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این بلوچستان کے سربراہ فیض اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی پابندی خاطر میں نہیں لائی جاتی۔

انھوں نے بتایا کہ ’اگر دس تلور شکار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو رپورٹ یہ آتی ہے کہ وہ 200 یا 300 ایک دن میں مارتے ہیں۔‘