شکار پر عدالتی پابندی لیکن عرب شیخ کا کیمپ لگ گیا

بلوچستان ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ صوبائی حکومت جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے متعلقہ قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائے

،تصویر کا ذریعہYves Hingrat

،تصویر کا کیپشنبلوچستان ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ صوبائی حکومت جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے متعلقہ قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی ضلعے چاغی میں ایک عرب شیخ کے لیے شکار کیمپ قائم کیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے ایک سینیئر افسر نے چاغی میں سعودی شیخ کے کیمپ کے قیام کی تصدیق کی۔

<link type="page"><caption> بلوچستان میں سعودی شہزادے کا’بے دریغ‘ شکار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/05/140501_balochistan_arab_birds_hunting_zz" platform="highweb"/></link>

ان کا کہنا تھا کہ ’جس عرب شیخ کے لیے چاغی میں کیمپ قائم کیا گیا ہے اس کے لوگ چاغی پہنچ گئے ہیں لیکن خود عرب شیخ ابھی تک نہیں پہنچے۔‘

خیال رہے کہ ماضی میں چاغی میں عرب شیخ نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے آتے رہے ہیں۔ ہجرت کرنے والا یہ پرندہ اس موسم میں روس سے بلوچستان کے گرم علاقوں کا رخ کرتا ہے۔

1980کی دہائی سے عرب شیوخ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تلور کے شکار کے لیے آتے ہیں (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن1980کی دہائی سے عرب شیوخ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تلور کے شکار کے لیے آتے ہیں (فائل فوٹو)

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 1980کی دہائی سے خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کی جاتی رہی ہیں۔

اس پرندے کے شکار کے لیے وفاقی وزارت خارجہ کی جانب سے جو پرمٹ جاری کیا جاتا ہے اس کے مطابق کسی بھی علاقے میں عرب شیوخ دس دن کے لیے شکار کرسکتے ہیں۔

ان دس دنوں میں ان کو صرف 100 تلور شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن قدرتی ماحول کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این بلوچستان کے سربراہ فیض اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی پابندی خاطر میں نہیں لائی جاتی۔

انھوں نے بتایا کہ ’اگر دس تلور شکار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو رپورٹ یہ آتی ہے کہ وہ 200 یا 300 ایک دن میں مارتے ہیں۔‘

بلوچستان ہائیکورٹ نےگذشتہ سال کے آخر میں اپنے ایک فیصلے میں عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ جس جنگلی حیات کی نسل کو خطرہ ہو ان کے شکار کی اجازت اسے مزید خطرے سے دوچار کرے گی، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایسی جنگلی حیات کے شکار کی اجازت دینے کی بجائے ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ بلوچستان حکومت وفاقی وزارتِ خارجہ کے شکارگاہیں الاٹ کرنے کے کسی فیصلے کی پابند نہیں۔

عدالت نے بلوچستان حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے متعلقہ قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائے۔

جب محکمۂ جنگلات اور جنگلی حیات کے ایک سینیئر افسر سے پوچھا گیا کہ کیا چاغی میں عرب شیخ کا کیمپ ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ چاغی میں جو کیمپ قائم کیا گیا ہے اس کے لوگوں نے تاحال شکار شروع نہیں کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے محکمے کے لوگ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے چاغی میں موجود ہیں۔