تلور کے شکار پر پابندی کی خلاف ورزی کا نوٹس

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان ہائی کورٹ نے نایاب پرندے تلور کی شکار پر پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی پر صوبائی سیکریٹری داخلہ اور دو اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

ہائی کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد اعجاز سواتی پر مشتمل بینچ نے نوٹس جاری کرنے کا حکم بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر محمد اسلم بھوتانی کے وکیل کی جانب سے دائر کیے جانے والے درخواست پر دیا۔

درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق سپیکر صوبائی اسمبلی کی دائر کردہ آئینی درخواست پر عدالت نے تلور کی شکار پر پابندی عائد کی تھی۔

اس کے بر عکس بلوچستان کے دو اضلاع گوادر اور موسیٰ خیل میں اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کی استد عا کی تھی۔ عدالت نے درخواست پر صوبائی سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری محکمہ جنگلات، ، ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل اور ڈپٹی کمشنر گوادر کو نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کو ذاتی طور پرعدالت میں پیش ہونے حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت میں پیش ہوکر یہ وضاحت کرے کہ آیا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔

عدالت نے سماعت کے موقع پر موجود سیکرٹری جنگلات کو ہدایت کی کہ تلور کے شکار کی ہرگز اجازت نہ دی جائے اور اس کی شکار پر پابندی کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

واضح رہے کہ چند روز بیشتر بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں خلیجی ملک قطر سے تعلق رکھنے والے عرب شیوخ تلور کے شکار کے لیے آئے تھے۔

موسیٰ خیل کے علاقے میں شکار کے لیے آنے والے ان عرب شیوخ کے آنے سے دو ہفتے قبل ہی بلوچستان ہائیکورٹ نے ایک فیصلے میں وفاقی وزارت خارجہ کی جانب سے عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ جن جنگلی حیات کی نسل کو خطرہ ہو ان کے شکار کی اجازت اسے مزید خطرے سے دوچار کرے گی اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایسی جنگلی حیات کے شکار کی اجازت دینے کی بجائے ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان عرب شیوخ کو شکار گاہیں اس لیے الاٹ کی جاتی ہیں کہ وہ فلاحی کام کرتے ہیں لیکن یہ کوئی جائز تاویل نہیں۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ بلوچستان حکومت وفاقی وزارت خارجہ کے شکارگاہیں الاٹ کرنے کے کسی فیصلے کی پابند نہیں۔

عدالت نے بلوچستان حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے متعلقہ قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائے۔

1980کی دہائی سے عرب شیوخ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تلور کے شکار کے لیے آتے ہیں اور ہجرت کرنے والا یہ پرندہ تلور اس موسم میں روس سے بلوچستان کے گرم علاقوں کا رخ کرتا ہے۔

قدرتی ماحول کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این نے اس پرندے کو ان جنگلی حیات کی فہرست میں شامل کیا ہے جن کی نسل کو ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہے جس کے باعث اس پرندے کا شکار ممنوع ہے۔