’ملک میں توانائی کا بحران ہے، دور ہونے میں تین سال لگیں گے‘

خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ قومی تنصیبات کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخواجہ آصف نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ قومی تنصیبات کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں

پاکستان کے وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں توانائی کا بحران ہے، جس کے خاتمے میں تین سال لگ سکتے ہیں۔

انھوں نے پیر کے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دس روز میں ملک میں بجلی کی تنصیبات پر تخریب کاروں نے تین حملے کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ٹرانسمشن لائن کی کل لمبائی 19 ہزار کلومیٹر ہے، جس کی مکمل طور پر حفاظت نہیں کی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ شہروں میں چھ گھنٹے، جب کہ دیہات میں آٹھ گھنٹے لوڈشیڈنگ کا ہدف ہے۔

STY37010859نیشنل گرڈ میں خرابی کے بعد بجلی کی جزوی بحالی شروعنیشنل گرڈ میں خرابی کے بعد بجلی کی جزوی بحالی شروعپاکستان کے وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے نصیرآباد ڈویژن میں دہشت گردوں کی جانب سے مرکزی ٹرانسمیشن لائن کی تباہی کے بعد ملک میں بجلی کی جزوی بحالی شروع ہو گئی ہے۔2015-01-25T00:52:56+05:002015-01-25T01:08:42+05:002015-01-25T06:41:35+05:002015-01-25T12:27:46+05:00PUBLISHEDurtopcat2

پاکستان کے چاروں صوبوں میں بریک ڈاؤن کے چھ گھنٹے بعد اتوار کی رات کو بجلی کی فراہمی کا سلسلہ بتدریج بحال ہونا شروع ہوا۔

نیشنل گرڈ میں خرابی کے باعث یہ بریک ڈاؤن سنیچر کی شب 12 بجے کے قریب شروع ہوا تھا اور ملک کے 80 فیصد علاقے کی بجلی چلی گئی تھی۔

وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے اتوار کے روز کہا تھا کہ اس بلیک آؤٹ کی وجہ بلوچستان میں نصیرآباد ڈویژن میں دہشت گردوں کی جانب سے گڈو سے سبی جانے والی مرکزی ٹرانسمشن لائن کی تباہی ہے۔

ادھر اسلام آباد میں پیر کو وزیرِ اعظم نواز شریف کی سربراہی میں بجلی کی صورتِ حال پر ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں انھیں بجلی کی صورتِ حال کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار اور بجلی و پانی خواجہ آصف اس اجلاس میں شامل ہیں۔

بجلی کا بریک ڈاؤن سنیچر کی شب 12 بجے کے قریب شروع ہوا تھا جس کے بعد ملک کے 80 فیصد علاقے کی بجلی چلی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنبجلی کا بریک ڈاؤن سنیچر کی شب 12 بجے کے قریب شروع ہوا تھا جس کے بعد ملک کے 80 فیصد علاقے کی بجلی چلی گئی تھی

ریڈیو پاکستان کے مطابق خواجہ آصف نے وزیراعظم کو بتایا کہ ہفتہ کی رات ٹرانسمیشن لائن میں کسی خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ اوچ کے علاقے میں ٹرانسمیشن لائنوں کو دہشت گردوں نے اڑا دیا جس کے نتیجے میں گڈو بجلی گھر ٹرپ کر گیا جس سے تمام نظام تباہ ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی کے نظام کو معمول پر لانے کے لیے تین پلانٹوں کو نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ کراچی الیکٹرک کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے ، اور اب اس ادارے کے پیداواری صلاحیت کو مدِ نظر رکھ کر نیا معاہدہ کیا جائے گا۔