پاک بھارت سرحدی کشیدگی: چار افراد ہلاک

پاکستان نے ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات پر بھارت سے احتجاج کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات پر بھارت سے احتجاج کیا ہے

پاکستان اور بھارت کی سرحدی فورسز کے درمیان ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات میں دو بھارتی سکیورٹی اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دونوں جانب کے حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان کی جانب ایک 13 بچی جبکہ بھارت کی جانب دو فوجی اور ایک 14 سالہ بچی ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے فوجی حکام کے مطابق سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی سرحدی فورس کی فائرنگ سے 13 سالہ بچی ہلاک ہو گئی ہے۔

سنیچر کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے میڈیا کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق بی ایس ایف کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کا واقعہ ورکنگ باؤنڈری کے ظفر وال سیکٹر میں پیش آیا۔

بیان کے مطابق فائرنگ سے چک نیہلا کی رہائشی 13 سالہ سمیرا ہلاک ہو گئیں جبکہ شکر گڑھ سیکٹر میں بھی بی ایس ایف کی فائرنگ سے بھیکا چیک کا رہائشی 8 سالہ مرسلین زخمی ہو گیا۔

آئی آیس پی آر کے مطابق رینجرز کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی بھی کی ہے۔

ادھر بھاتی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی رینجرز نے وادی کشمیر کے کپوارہ سیکڑ میں بھارتی ٹھکانوں پر فائرنگ کی جس میں دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے اور دو زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کے بعد کپوارہ اور بارہمولہ کے سبھی سرحدی خطوں میں فوج کو اضافی سکیورٹی انتظامات کا حکم دیا گیا ہے۔

اس دوران بھاتی حکام نے سنیچر کو بتایا کہ سرینگر سے جنوب کی جانب تین سو کلومیٹر دور جموں خطے کے کٹھوعہ ضلع میں اکھنور سیکٹر کے قریب پاکستانی رینجرز نے بی ایس ایف کے ٹھکانوں پر فائرنگ کی جس میں ایک 14 سالہ لڑکی زخمی ہوگئی اور بعد میں ہسپتال میں اس کی موت ہوگئی۔

ورکنگ باؤنڈری پر وقفے کے بعد فائرنگ کے واقعات دوبارہ پیش آنا شروع ہوئے ہیں۔

31 دسمبر کو ورکنگ باؤنڈری کے شکر گڑھ سیکٹر میں بھارتی سرحدی فورسز اور چناب رینجرز کے درمیان فائرنگ کا تبادلے میں دو پاکستانی اور ایک بھارتی اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

پاکستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بھارت سے احتجاج کیا تھا۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بدھ کے روز دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کی جانب سے فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی۔

گذشتہ روز جمعے کو پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے بھارتی وزیر خارجہ کو خط بھی لکھا تھا۔

خط کے متن کے مطابق:’اس افسوسناک واقعے سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ امن وامان قائم رکھنے کے بارے میں دونوں ملکوں کے معاہدے کونقصان پہنچے گا۔‘

خیال رہے کہ پاکستان سکیورٹی حکام کے مطابق بھارت کی سرحدی فورس کے ایک پوسٹ کمانڈر نے فلیگ میٹنگ بلائی تھی اور جب رینجرز اہلکار اس میں شرکت کرنے پہنچے تو ان پر فائرنگ کر دی گئی اور اس واقعے میں رینجرز کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہیں

جبکہ اب بی ایس ایف کے ایک افسر نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں نے بھارتی فوج کی ایک گشتی ٹیم پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ان کا ایک فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا سلسلہ سرحدوں پر کئی برس کے امن کے بعد 2013 میں شروع ہوا تھا۔

گذشتہ سال اکتوبر میں جموں کی سرحدوں پر دونوں فوجوں نے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کی جس میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے 12 افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔

جنرل مشرف اور واجپائی کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں نے سرحدوں اور عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول پر فائربندی کا معاہدہ 2003 میں ہوا تھا۔

لیکن اکثر اوقات سرحدوں پر فائرنگ ہوتی رہی اور ہر بار دونوں ملک ایک دوسرے کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہیں۔