’سرحد پر فائرنگ سے دو پاکستانی ہلاک، متعدد زخمی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے شہر سیالکوٹ کے قریب ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے میں دو پاکستانی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
پاکستان رینجرز کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس نے جمعے کی شب بھاری ہتھیاروں سے ورکنگ باؤنڈری پر چاروا اور مہراج کے سیکٹر کے سرحدی علاقوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔
رینجرز کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ سے دو مختلف دیہات میں 50 سالہ رخسانہ بی بی اور 60 سالہ امداد حسین ہلاک اور متعدد شہری زخمی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فائرنگ سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا اور متعدد مویشی بھی مارے گئے۔
چناب رینجرز نے بھارتی کارروائی کے جواب میں بھی فائرنگ کی۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس نے پاکستانی رینجرز پر جموں کے آر ایس پورہ سیکٹر میں 17 بھارتی تنصیبات پر رات بھر فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
حکام کے مطابق فائرنگ کی زد میں آ کر بی ایس ایف کے ایک اہلکار سمیت سات شہری زخمی ہوئے ہیں۔
ابتدائی طور پر فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ملی تھیں تاہم بی ایس ایف کے انسپکٹر جنرل راکیش کمار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تردید کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان کا کہنا تھا ’سات لوگ زخمی ہیں اور ان میں سے دو کی حالت نازک ہے جنھیں جموں کے ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔‘
سیالکوٹ سیکٹر پر ورکنگ باؤنڈری پر رواں ہفتے یہ فائرنگ کا دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل 18 اگست کو چاروا سیکٹر میں ہی بھارتی فائرنگ سے چناب رینجزز کے دو اہلکاروں سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔
بھارت میں حالیہ انتخابات کے بعد برسرِ اقتدار آنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے وزیرِ دفاع ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے اگست کے وسط تک پاکستان نے بیس مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
انھوں نے کشمیر کے دورے کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ ایل او سی کے ذریعے دراندازی کرنے والے مسلح افراد کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔
دریں اثنا پاکستان کے ساتھ ملنے والی بھارت کی عالمی سرحد کے بعض حصوں پر اسرائیلی طرز کی ایک پختہ دیوار تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔
بھارت کے نیم فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دس میٹر اونچی یہ دیوار جموں کی 118 بستیوں سے گزرے گی۔







