میری توقع سے زیادہ اچھا سلوک کیا گیا: بھارتی فوجی

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پنجاب رینجز نے دو روز پہلے سیالکوٹ میں پاکستان کی سرحد عبور کرنے والے بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے جوان کو بھارتی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
بھارت نے پاکستان سے اس کے فوجی کو جلد رہا کرنے کی درخواست کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
خیال رہے کہ ستیہ شیل یادیو کو دو روز پہلے بجوات سیکٹر سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان کی کشتی بےقابو ہوکر پاکستانی سرحد میں داخل ہوگئی تھی۔
حوالگی سے پہلے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بھارتی فوجی ستیہ شیل یادیو نے بتایا کہ ان کا تعلق انڈین بی ایس ایف کی 33 بٹالین کی چارلی کمپنی سے ہے۔
ستیہ شیل یادیو نے بتایا کہ انھوں نے لائف جیکٹ پہن رکھی تھی لیکن انھیں تیرنا نہیں آتا تھا۔ پھر بھی انھوں نے جان بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ اسی کوشش کے دوران پاکستان رینجرز نے انھیں دیکھ لیا اور انھیں پانی سے نکالا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارتی فوجی کا کہنا تھا ’میں نے خود کو متعارف کروایا وہ (پنجاب رینجر کے اہلکار) مجھے ایک آرام دہ جگہ لے آئے اور کھانا کھلایا۔ مجھ سے میری توقع سے زیادہ اچھا سلوک کیا گیا۔ کوئی تکلیف نہیں دی گئی۔ مجھے خوشی ہے کہ آج میں گھر اپنے بچوں کے پاس جارہا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
فوجی کی حراست کے بعد انڈین بارڈر سکیورٹی فورس اور پاکستان رینجز کے درمیان فلیگ میٹنگ ہوئی تھی جس میں پاکستانی حکام نے بی ایس ایف اہلکار کو جلد رہا کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ستیہ شیل یادیو دریائے چناب میں اکھنور کے قریب اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ پڑولنگ کی ڈیوٹی پر تھا کہ ان کی موٹر بوٹ کا انجن فیل ہوگیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان فوجیوں کی مدد کے لیے ایک ریسکیو بوٹ بھیجی گئی تھی جس میں ستیہ شیل کے تین ساتھی تو سوار ہوگئے تھے تاہم پانی کی ایک طاقتور لہر کی وجہ سے ریسکیو اہلکاروں کی رسی ستیہ شیل کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور لہر انھیں چار سو مٹیر دور پاکستان کے علاقے سیالکوٹ بہا لے گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی گشیدگی اور فائرنگ کے واقعات تو اکثر رپورٹ ہوتے رہتے ہیں تاہم زیر حراست فوجی کو بغیر کسی تشدد کے واپس بھیجنا دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخ میں ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس واقعے کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان اور بھارت کی جیلوں میں ایسے سینکڑوں ماہی گیر اور قیدی موجود ہیں جو غلطی سے سرحد عبور کرکے ایک دوسرے کے ملکوں میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر انھیں برس ہا برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے گذارنا پڑتے ہیں۔
حال ہی میں بھارت میں نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان اور انڈیا کی حکومتیں خیرسگالی کے طور پر ایک دوسرے کے درجنوں قیدی رہا کر چکی ہیں۔







