ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ، پاکستان کا بھارت سے احتجاج

پاکستان اور بھارت کی سرحدی فورسز کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور بھارت کی سرحدی فورسز کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے

پاکستان اور بھارت کی ورکنگ باؤنڈری پر واقع شکر گڑھ سیکٹر میں فائرنگ کے تبادلے میں اہلکاروں کی ہلاکت پر پاکستان نے بھارت سے احتجاج کیا ہے۔

شکر گڑھ سیکٹر میں بدھ کو پیش آنے والے واقعے میں بھارتی سکیورٹی فورسز اور چناب رینجرز کے درمیان فائرنگ کا تبادلے میں دو پاکستانی اور ایک بھارتی اہلکار ہلاک ہو گیا۔

پہلے پاکستان کے عسکری حکام نے اطلاع دی تھی کہ بھارت کی سرحدی محافظ بی ایس ایف کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجےمیں پاکستانی رینجرز کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

جبکہ اب بی ایس ایف کے ایک افسر نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں نے بھارتی فوج کی ایک گشتی ٹیم پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ان کا ایک فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

پاکستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بھارت سے احتجاج کیا ہے۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بدھ کے روز دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی جانب سے فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی۔پاکستان نے کہا کہ بھارتی فائرنگ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان نے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب رینجرز کے ترجمان میجر اعجاز احمد نے بی بی سی سے بات کرت ہوئے بتایا کہ بدھ کی صبح 11 بجے کے قریب بھارت کی سرحدی فورس بی ایس ایف کے شکر گڑھ سیکٹر کے ایک پوسٹ کمانڈر نے فلیگ میٹنگ کی درخواست کی۔

انھوں نے بتایا کہ جب ایک طے کردہ طریقہ کار کے تحت رینجرز اہلکار مقررہ مقام پر پہنچے تو بی ایس ایف نے بلااشتعال فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو اہلکار نائیک محمد ریاض اور لانس نائیک صفدر ہلاک ہو گئے۔

انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد باقی اہلکاروں نے محفوظ مقامات پر اپنی پوزیشنز لے لیں۔

میجر اعجاز احمد کے مطابق جب دونوں لاشوں کو اٹھانے کی کوشش کی تو بھارتی فورس کی جانب سے وقفے وقفے سے فائرنگ کرتے رہے اور پاکستانی فورسز کی جانب سے جوابی فائرنگ بھی کی گئی۔

پنجاب ریجنرز کے ترجمان نے فلیگ میٹنگز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹ ٹو پوسٹ یعنی دونوں ممالک کی سرحدی چوکیاں ایک روایتی طریقۂ کار کے تحت ایک دوسرے سے فلیگ میٹنگز کرتی رہتی ہیں جس طرف سے ملاقات کی درخواست آتی ہے تو وہ سفید جھنڈا لہراتا ہے اور دوسری طرف سے ملاقات کرنے اہلکار جاتے ہیں۔

میجر اعجاز احمد کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں فلیگ میٹنگ کے لیے بلایا جائے اور پھر اس میں شرکت کے لیے آنے والوں پر فائرنگ کر دی جائے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا سلسلہ سرحدوں پر کئی برس کے امن کے بعد 2013 میں شروع ہوا تھا۔

پچھلے سال اکتوبر میں بھی سیالکوٹ کی سرحد پر بھارتی گولہ باری سے ایک فوجی اور دو شہری ہلاک اور چودہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر کسی سال کے امن کے بعد 2013 میں دوبارہ فائرنگ کے واقعات شروع ہوئے تھھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشندونوں ممالک کے درمیان ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر کسی سال کے امن کے بعد 2013 میں دوبارہ فائرنگ کے واقعات شروع ہوئے تھھے

حالیہ برس اگست میں ایک مرتبہ پھر سیالکوٹ ورکنگ باونڈری پر پاکستان اور بھارت کے سرحدی محافظوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ جس میں دو شہری ہلاک اور رینجرز اہلکاروں سمیت کئی زخمی ہوئے۔

جس کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے باقاعدہ احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا۔

اگست میں ہی نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیر علیحدگی پسند رہنماوں سے ملاقات کو لے کر بھی بھارت میں خاصی نتقید کی گئی تھی۔ جس کے بعد بھارت نے 26 اگست کو طے شدہ دنوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ کی ملاقاتوں کو بھی منسوخ کردیا تھا۔

سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر گذشتہ چند ماہ سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور حسب معمول دنوں جانب سے ایک دوسرے پر پہلے گولہ باری شروع کرنےکا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔