کوئٹہ سے ہندو برادری کا ڈاکٹر اغوا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
اغوا کایہ واقعہ منگل کی شب انڈسٹریل پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔
پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ڈاکٹر کی گمشدگی کی اطلاع ان کے والد نے دی۔
مغوی کے والد کے مطابق ان کے بیٹے کی گاڑی الگیلانی روڈ پر موجود تھی لیکن وہ خود گاڑی میں موجود نہیں تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے دونوں موبائل ٹیلی فون نمبرز بھی بند جا رہے ہیں۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان کے بیٹے کو اغواء کر لیاگیا ہے۔
انڈسٹریل پولیس تھانے میں ڈاکٹر کے اغوا کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تاحال ان کے اغوا کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر منوج کمار کوئٹہ شہر میں ایک معروف ٹیوشن سینٹر کے بھی مالک تھے۔
دوسری جانب کوئٹہ ہی میں صوبے کے مشیر برائے تعلیم سردار رضا محمد بڑیچ کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حملے میں ان کی گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا تاہم وہ خود محفوظ رہے۔ مشیر تعلیم کو منگل کے روز جوائنٹ روڈ پر بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے جوائنٹ روڈ پر سڑک کنارے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔
دھماکہ خیز مواد اس وقت پھٹا جب وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم سردار رضا محمد بڑیچ اپنی گاڑی میں وہاں سے گزر رہے تھے۔
دھماکے سے صوبائی مشیر کی گاڑی کو نقصان پہنچا جس کے باعث صوبائی مشیر کا ڈرائیور معمولی زخمی ہوا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ اس بم حملے کا ہدف مشیر تعلیم تھے۔ سردار رضا محمد بڑیچ کا تعلق پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے۔







