فضل الرحمٰن پر خودکش حملے میں دو افراد ہلاک

کوئٹہ شہر میں جمعرات کو ہونے والا یہ تیسرا پرتشدد واقعہ ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکوئٹہ شہر میں جمعرات کو ہونے والا یہ تیسرا پرتشدد واقعہ ہے

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حکام کے مطابق مولانا فضل الرحمان پر خودکش حملے میں دو افراد ہلاک اور کم از کم 15 زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکہ جمعرات کو کوئٹہ میں جمیعت علما اسلام کے جلسے کے دوران مولانا فضل الرحمان کی تقریر کے بعد ہوا۔

حکومتِ بلوچستان کے ترجمان جان بلیدی نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ یہ حملہ خودکش تھا۔ انھوں نے کہا اس حملے میں دو افراد ہلاک اور 15 افراد زخمی ہوئے۔

انھوں نے حملے کے ہدف کے بارے میں بتایا کہ ’ظاہر ہے مولانا فضل الرحمان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تو وہی ٹارگٹ تھے۔‘

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق نے مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ خودکش تھا جس کے اثرات ان کی گاڑی سے واضح ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی کی ایک طرف کا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ کوئٹہ شہر میں جمعرات کو ہونے والا یہ تیسرا واقعہ ہے۔اس سے قبل کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ایک بس پر فائرنگ کے نتیجے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برادری کے آٹھ افراد ہلاک اور ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔

کوئٹہ ہی میں قمبرانی روڑ پر پولیس حکام کے مطابق ایف سی کے قافلے پر بم حملے میں دو افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے ہیں۔

ایس پی سریاب روڑ عمران شیخ کے مطابق دھماکے کا ہدف ایف سی کی پیٹرولنگ گاڑیاں تھی تاہم وہ اس دھماکے میں محفوظ رہی اور زخمی ہونے والے افراد میں راہ گیر اور قریبی دکانوں میں کام کرنے والے افراد ہیں۔