انجلی میگھواڑ کا عدالت میں والدین سے ملنے سے انکار

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ ہائی کورٹ میں بھی انجلی میگھواڑ عرف سلمیٰ نے اپنے والدین سے ملنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ بھرچونڈی پیر خاندان کی جانب سے نوجوان کو وکیل فراہم کیا گیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس احمد علی نے پیر کو انجلی کی مبینہ جبری مذہب کی تبدیلی اور نکاح کے خلاف درخواست کی اپنے چیمبر میں سماعت کی، پولیس نے انجلی اور ریاض سیال کو عدالت میں پیش کیا۔
انجلی کے والد کندن میگھواڑ کا کہنا تھا کہ انھیں لڑکی سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے اور وہ ملاقات کے لیے دارالامان کا بےسود چکر لگاتے رہے ہیں۔ اس کی تصدیق دارالامان کی وکیل نے بھی کی اور بتایا کہ لڑکی والدین سے ملنا نہیں چاہتی اور وہ اس کی مرضی کے بغیر ملاقات نہیں کر سکتے۔
<link type="page"><caption> کم عمر ہندو بچی کو مسلمان کرا کے شادی کرانے پر احتجاج</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/11/141105_sindh_hindu_forced_conversion_rk" platform="highweb"/></link>
جسٹس احمد علی نے حکام کو ہدایت کی کہ اگر لڑکی والدین سے ملنا چاہے تو اس کی ملاقات کا انتظام کیا جائے۔ انھوں نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی اور انجلی کو دارالامان اور لڑکے ریاض سیال کو پولیس کی تحویل میں ہی رکھنے کا حکم جاری کیا۔
بھرچونڈی پیر خاندان کی جانب سے ریاض سیال کو سابق رکن قومی اسمبلی مجیب پیرزادہ کی خدمات فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم انھوں نے میڈیا سے بات کرنے سے معذرت کی۔
ڈھرکی کے بھرچونڈی کے پیر خاندان کا کہنا ہے کہ انجلی نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے جس کے بعد انجلی کا ریاض سیال نامی شخص سے نکاح کر دیا گیا تھا۔
انجلی کے والد کندن میگھواڑ کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی نابالغ ہے اور اسے اغوا کر کے جبری مذہب تبدیل کیا گیا ہے اور انھیں دھمکی دی گئی ہے کہ معاملہ ادھر ہی ختم کر دو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







