فرزانہ قتل کیس میں چار ملزمان کو سزائے موت

فرزانہ کو چند ماہ پہلے لاہور ہائیکورٹ کے باہر اس کے خاندان کے افراد نے اینٹیں مار کر قتل کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفرزانہ کو چند ماہ پہلے لاہور ہائیکورٹ کے باہر اس کے خاندان کے افراد نے اینٹیں مار کر قتل کر دیا تھا
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پسند کی شادی کرنے پر اپنے خاندان کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کے چار قاتلوں کو سزائے موت کی سزا سنائی ہے۔

فرزانہ نامی اس خاتون کو رواں برس 27 مئی کو لاہور ہائیکورٹ کے باہر اس کے خاندان کے افراد نے اس وقت اینٹیں مار کر قتل کر دیا تھا جب وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ایک مقدمے کی پیشی کے لیے عدالت کے احاطے میں داخل ہو رہی تھیں۔

30 سالہ فرزانہ کا تعلق فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ سے تھا اور انھوں نے گھر والوں کے مخالفت کے باوجود محمد اقبال سے پسند کی شادی کی تھی۔

فرزانہ کے خاوند نے اپنے سسر اور دو برادرانِ نسبتی کے علاوہ فرزانہ کے سابقہ منگیتر اور 15 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بدھ کو دلائل مکمل ہونے پر فرزانہ کے والد محمد عظیم، بھائی محمد زاہد، سابق منگیتر مظہر عباس اور کزن جہان احمد کو تین تین مرتبہ موت کی سزا اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

فرزانہ نےگھر والوں کے مخالفت کے باوجود پسند کی شادی کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرزانہ نےگھر والوں کے مخالفت کے باوجود پسند کی شادی کی تھی

فرزانہ کے ایک اور بھائی غلام احمد کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق جب لاہور ہائیکورٹ کے قریب فرزانہ پر حملہ ہوا تو آس پاس موجود پولیس اہلکار موجود انھیں بچانے کے لیے دوڑے بھی لیکن چار حملہ آوروں کے علاوہ وہاں موجود ان کے مسلح ساتھیوں نے پولیس سے مزاحمت کی اور جتنی دیر میں پولیس اہلکار نے پستول چھینا فرزانہ مر چکی تھیں۔

اس واقعے پر پاکستان کے اندر اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ایچ آر سی پی کی چیئر پرسن زہرا یوسف نے عدالتی فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اگرچہ ان کا ادارہ موت کی سزا کے خلاف ہے تاہم انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔

بی بی سی کی حمیرہ کنول سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی فیصلے کی کاپی نہیں دیکھی اس کے بعد ہی ردعمل دیا جا سکے گا۔‘

زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کی تعداد 900 سے 1000 کے قریب ہوتی ہے۔

ایچ آر سی پی کے مطابق سال 2013 میں پاکستان میں غیرت کے نام پہ 510 خواتین کو قتل کیا گیا۔ جبکہ 352 خواتین کو کاروکاری کیا گیا اور 874 کو دیگر وجوہات پر قتل کیا گیا۔

غیرت کے نام پر قتل ہونے والی 510 عورتوں میں سے 254 عورتوں کوناجائز تعلقات کے نام پر جبکہ 157 کو پسند کی شادی کرنے کے جرم میں قتل کیا گیا۔