مسیحی جوڑے کی ہلاکت، مزید 16 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کے قتل کے مقدمے میں بھٹہ مالک سمیت پانچ مرکزی ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔
پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی گاؤں کوٹ رادھا کشن میں چند روز پہلے ایک مشتعل ہجوم نے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں ایک مسیحی جوڑے کو ہلاک کر دیا تھا۔
ہلاک ہونے والے شمع اور شہزاد مسیح اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتے تھے۔
دس روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد بھٹہ مالک اور اس کے منشی سمیت پانچ مرکزی ملزموں کو بدھ کو لاہور میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان ملزمان سے تفتیش کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور دوران تفتیش ان کی نشاندہی پر مزید 16 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ گرفتار کیے گئے ان 16 افراد کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے تاکہ ان سے پوچھ گچھ کرکے تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جا سکے۔
اس پر عدالت نے پانچ مرکزی ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے جبکہ دیگر ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
اس واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس پر شمع مسیح کے والد نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں مقدمے میں مرکزی درخواست گزار بنایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی تھی جبکہ شمع اور شہزاد کے بچوں کے لیے مالی مدد کا اعلان بھی کیا تھا۔








