حملہ آور پولیس اہلکار پولیس کی تحویل میں

،تصویر کا ذریعہAFP
راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار اڈیالہ جیل کے اہلکار کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ دے کر انھیں پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔
ملزم یوسف کو سخت پہرے میں راولپنڈی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے اس واقعے کی تحققیات کے لیے عدالت سے ملزم کے پانچ روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے ملزم کو تین روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔
ملزم یوسف کو 29 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کے قبضے سے سرکاری پستول اور خنجر برآمد کر لیاگیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم اُن محرکات کا جائزہ لے رہی ہے جس کی وجہ سے ملزم یوسف نے توہین مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے راجہ اصغر پر فائرنگ کی۔
تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزم یوسف مذہی رجحان رکھتا ہے۔ اس سے پہلے اڈیالہ جیل کے حکام کا کہنا تھا کہ ملزم یوسف کا ایک سال قبل اڈیالہ جیل میں تبادلہ ہوا تھا اس سے قبل وہ گوجرانوالہ اور شیخوپورہ کی جیلوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔
جیل حکام نے ان اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ ملزم یوسف اڈیالہ جیل میں تعیناتی کے دوران گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار ممتاز قادری کی بیرک کے باہر بھی ڈیوٹی ادا کرتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پنجاب پولیس کے اہلکار ممتاز قادری گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا سُنائی گئی تھی۔ ممتاز قادری مقتول گورنر کی سکیورٹی ٹیم میں شامل تھے اور سلمان تاثیر توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کرنے کی باتیں کرتے تھے جس کا مجرم ممتاز قادری کو رنج تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُدھر جیل کے اہلکار کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے راجہ اصغر کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم وہ ابھی بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔







