توہینِ مذہب کا قانون ہر مذہب کی تضحیک پر لاگو ہوتا ہے:چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ ملکی قانون کے مطابق کسی بھی مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
منگل کو پشاور میں گرجا گھر پر حملے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں ازِخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ توہینِ مذہب کا قانون ہر مذہب کی تضحیک پر لاگو ہوتا ہے۔
پاکستان کی سرکار خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق جسٹس تصدق جیلانی نے سماعت کے آغاز پر صوبہ سندھ میں مندروں کو نذرِ آتش کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج نہ کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔
چیف جسٹس نے اقلیتوں کے نمائندوں کو حکم دیا کہ وہ اقلیتوں کے خلاف مواد کے استعمال کے واقعات کے بارے میں رپورٹ پیش کریں اور یہ بھی بتائیں کہ کب کب قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت اقلیتوں کے تحفظات سے اتفاق کرتی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی فورس کے قیام کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس موقع پر اقلیتی رہنما ڈاکٹر رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران ہندوؤں کے چھ مندروں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے لیکن ان واقعات کے ذمہ داران ابھی تک نہیں پکڑے گئے۔
انھوں نے کہا کہ ان چھ میں سے چار واقعات توہینِ مذہب کے قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی علی شیر جاکھرانی نے بتایا کہ پولیس نے اقلیتوں پر تشدد کے پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے تاہم ان کے خلاف توہینِ مذہب کے قانون کے تحت مقدمہ نہیں درج کیا گیا۔
اس پر چیف جسٹس نے سندھ پولیس کے آئی جی کو ایک ہفتے میں اس بارے میں مفصل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔







