نمل یونیورسٹی کے پروفیسر قتل

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ٹارگٹ گلنگ کے عنصر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ٹارگٹ گلنگ کے عنصر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں دو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے پروفیسر خالد بلال کو قتل کر دیا۔

ملزمان ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے جائے وقوع سے فرار ہوگئے۔

مقامی پولیس کے مطابق نمل یونیورسٹی کے پروفیسر خالد بلال اپنی اہلیہ کے ہمراہ جی 16 میں واقع اپنے زیرِ تعمیر گھر کو دیکھنے گئے کہ اسی دوران دو مسلح نوجوان جن کی عمریں 20 سے 25 سال کے دوران بتائی جاتی ہیں وہاں آئے اور کسی شخص کے گھر کا پتہ پوچھا۔

پولیس کے بقول مقتول کے زیرِ تعمیر گھر پر تعینات چوکیدار نے پوچھے گئے پتے سے لاعلمی کا اظہار کیا جس کے بعد وہ دونوں وہاں سے چلے گئے۔

مقامی پولیس کے مطابق کچھ دیر کے بعد وہ دونوں نوجوان دوبارہ واپس آئے جنھیں دیکھ کر پروفیسر خالد بلال باہر آئے اور ان کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تلخ کلامی کے نتیجے میں ملزمان نے نمل یونیورسٹی کے پروفیسر خالد بلال پر فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے اور انھیں قریبی ہستپال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوگئے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے مقتول اور ملزمان کے درمیان کسی تکرار کو نہیں سنا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں فائرنگ کی آواز سنائی دی تاہم جب وہ وہاں پہنچے تو خالد بلال خون میں لت پت زمین پر پڑے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ٹارگٹ گلنگ کے عنصر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کرکے علاقے کی ناکہ بندی کردی ہے تاہم ملزمان گرفتار نہیں ہوئے۔