’آمدنی کم، افراط زر زیادہ مگر صارفین پرامید‘
- مصنف, عنبر شمسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کے نواحی علاقے میں عظمیٰ اسحاق الیکٹرونکس کی دکان میں اپنے گھر کے لیے نیا فریج خریدنے آئی تھیں۔
مقامی یونیورسٹی کے کتب خانے کی منتظم کے طور پر کام کرتی ہیں جبکہ ان کے شوہر بھی نجی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔
وہ اپنے گھر سے اس دکان تک موٹر سائیکل پر آئی تھیں جو ان کا بڑا بیٹا چلا رہا تھا۔ بیٹے کے علاوہ ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ ان کا فریج کئی سال پرانا ہے اور عظمیٰ کہتی ہیں کہ وہ اتنا بڑا خرچہ اس لیے کر رہی ہیں کہ سہولت بچت سے زیادہ اہم ہے۔
’کوئی شک نہیں کہ پیسے کی قدر بھی کم ہوتی جا رہی ہے، لیکن لوگ مقابلے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن میری لیے ایسی مصنوعات بہت ضروری ہیں کیونکہ میں کام بھی کرتی ہوں اور گھر بھی چلاتی ہوں۔ ان سے میں جلدی اپنا کام نمٹا سکتی ہوں۔‘
ماہرین کی نظر میں عظمیٰ کا خاندان ان دو تنخواہوں والے گھرانوں میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے متوسط طبقہ بڑی تعداد میں ٹی وی، فریج، واشنگ مشین وغیرہ جیسی مہنگی خریداری کر رہا ہے۔
کئی سرکاری و نجی جائزوں کے مطابق پاکستان میں صارفین اپنی اور ملک کی معاشی حالت کے بارے میں پرامید ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سٹیٹ بینک آف پاکستان اور کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق 2011 کے مقابلے میں صارفین اس سال زیادہ پرامید ہیں۔
تاہم بات صرف صارفین کے اعتماد کی نہیں ہے۔ پاکستان میں داخلی صارفین کی خریداری میں بھی گذشتہ پانچ برسوں میں 130 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس خرید و فروخت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی کارکردگی اس سال کچھ حد تک بہتر رہی ہے۔ لیکن جب لوگوں کی آمدنی میں اضافہ خاص نہیں ہے اور افراطِ زر کی شرح بھی زیادہ ہے، تو اس تضاد کے پیچھے کیا عوامل ہیں۔
کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے اسسٹنٹ پروفیسر جامی معیز کا خیال ہے کہ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ خریداری کے مواقع اور ذرائع بڑھ گئے ہیں۔’یہ بات درست ہے کہ لوگ بچت کم کر رہے ہیں اور ان کے اخراجات دن بہ دن بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کو خرچ کرنے کے ذرائع زیادہ سے زیادہ مل رہے ہیں۔مثال کے طور پرگذشتہ تین سالوں میں انٹرنیٹ شاپنگ کی تعداد دس گناہ زیادہ ہو گئی ہے اور یہ صنعت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سہیل عباسی کئی سالوں سے اسلام آباد کے کمرشل علاقے بلیو ایریا میں ایک دکان میں موبائل فون فروخت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور ان صارفین کا تعلق ہر طبقے سے ہے۔
سہیل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو اپنی تنخواہ سے زیادہ مہنگے فون قسطوں یا قرضوں پر لیتے ہیں۔ ’ہمارے پاس ایسے بھی لوگ آتے ہیں جن کی تنخوا 15 ہزار روپے ہے اور وہ 30 ہزار کا فون خرید لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اچھے فون پر فلمیں ڈاؤن لوڈ کر لیں گے تو قیمت وصول ہو جائے گی۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ بھی اس خریداری کی دوڑ میں برابر کا شریک ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے جامی معیز کہتے ہیں کہ پاکستان کی نصف سے زائد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے اور اس گروپ کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بہتر سے بہتر طرز زندگی اپنائیں اور اچھی سے اچھی چیزیں خریدیں۔
’یہ ہی وجہ ہے کہ افراطِ زر کی زیادتی کے باوجود خریداری میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ بنیادی طور پر پاکستان کی آبادی کا تعلق نوجوان طبقے سے ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی ملکی معیشت کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال بہتر کی کارکردگی کی ایک بڑی وجہ نجی صارفین کی بڑھتی ہوئی خریداری ہے۔ بلکہ معیشت کی شرح صرف تین سے چار فی صد کے درمیان ہے اور نجی استعمال کی مصنوعات کی خرید و فروخت قریباً چھ فیصد ہے۔
تاہم کراچی کے انسٹٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر ڈاکٹر قاضی مسعود کہتے ہیں کہ اس طرح کی ترقی میں تب مسئلہ پیدا ہوتا ہے جب سرمایہ کاری میں ساتھ ساتھ اضافہ نہیں ہوتا۔
’کساد بازاری کو خریداری کی بنیاد پر حل نہیں کیا سکتا۔ ساتھ ساتھ سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔ خریداری میں تیزی آئے گی تو طلب میں اضافہ ہو گا، اس کے بعد پیداوار بڑھے گی اور روزگار کے مواقع بھی زیادہ ہو جائیں گے۔ لیکن ایک وقت آئے گا کہ پیداواری صلاحیت ختم ہو جائے گی۔ پاکستان میں کیونکہ سرمایہ کاری کم ہے، اس لیے خریداری میں اضافہ زیادہ مثبت نتائج نہیں دیتا۔‘







