اقتصادی ترقی کی شرح چار فیصد تک رہے گی:سٹیٹ بینک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے مرکزی بینک کا کہنا ہے رواں مالی سال کے دروران ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح چار فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران کوئی بھی اقتصادی ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے یہ بات مالی سال 13-2012 کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہی ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2013 میں ختم ہونے والے مالی سال میں اقتصادی شرح نمو چار اعشاریہ تین فیصد کے ہدف کی بجائے تین اعشاریہ چھ فیصد رہی اور زراعت، صنعت، سرمایہ کاری اور خدمات کے شعبے میں ترقی کے لیے مطلوبہ ہدف حاصل نہیں ہو سکے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی اور غیر ملکی سمیت مجموعی قرضوں کی شرح جی ڈی پی کا 63 اعشاریہ تین فیصد تک رہی۔
سال ختم ہونے تک پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا جحم 49 ارب 58 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ اسی سال کے دوران حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو تقریباً تین ارب ڈالر کا قرض لوٹایا۔
پاکستان میں قرض کی حد کے قانون ( فسلکل لیمیٹیشن ایکٹ) کے تحت مجموعی قرضہ خام ملکی پیدوار (جی ڈی پی) کے 60 فیصد سے تجاوز نہیں کر سکتا۔
سٹیٹ بینک کا کہنا ہے گزشتہ مالی سال میں توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ یا زیر گردش قرضوں، بجلی گیس اور پیڑولیم مصنوعات پر سبسڈی کی مد ایک ہزار ارب روپے ادا کیے گئے جبکہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن بھی ہدف سے کم رہے اور اسی وجہ سے حکومتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔
سٹیٹ بینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں موجودہ مالی سال کی اقتصادی پیشن گوئی بھیں جاری کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے مطابق رواں سال پاکستان کی اقتصادی شرح نمو چار فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح دو اعشاریہ پانچ فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے پاکستان جیسا ملک جس کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہو اُسے سالانہ سات فیصد شرح نمو سے ترقی کرنا چاہیے تاکہ معشیت زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کر سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران بجلی، گیس اور پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، جنرل سیلز ٹیکس بڑھنے اور مالی سال شروع ہوتے ہی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی غیر مستحکم قدر سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا اور جون 2014 تک ملک میں اوسطاً مہنگائی کی شرح ساڑھے 11 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے ملک میں مہنگائی کی شرح کا ہدف نو فیصد مقرر کیاتھا۔
سٹیٹ بینک کہ مطابق دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں روکنے والی رقوم ملنے کا انکان ہے جبکہ آئی ایم ایف کے چھ ارب سات کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام سے پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر کا استحکام ملے گا۔
دوسری جانب سٹیٹ بینک نے ٹیکس آمدن کے لیے مقرر کردہ ہدف کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔
بینک نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ مالیاتی اصلاحات کا عمل جاری رکھے اور خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کی جلد تشکیل نو مکمل کرے تاکہ سرکاری خزانے پر دباؤ کم ہو جس سے نہ صرف معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔







