پاکستان: بڑھتی آبادی فائدہ بھی اور نقصان بھی

یوں توآبادی بڑھنا آج کل ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے لیکن شاید پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک بن گیا ہے جہاں پر آبادی میں نوجوانوں کی زیادہ شرح ایک ایسا اچھا موقع ہے جو اسے دنیا کے کسی بھی ترقیاتی ملک کے برابر لاسکتا ہے بلکہ اس سے آگے بھی لے کر جاسکتا ہے۔ تاہم ایسا نہ ہونے کی صورت میں یہ موقع خود اس کے گلے بھی پڑسکتا ہے۔
<link type="page"><caption> ’زندگی کم ہمت لوگوں کے بس کا کھیل نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/11/131107_hunar_mela_projects_islamabad_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
قابل اعتماد ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق پاکستان کی آبادی قریبا 18 کروڑ سے زائد نفوس پرمشتمل ہے جس میں ہرسال دو سے تین فی صد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
آبادی میں اضافے کی یہ رفتار ایک طرف تو بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن ان مسائل کے ماہرین کہتے ہیں کہ اس آبادی میں شامل آدھے سے زیادہ نوجوانوں کو اگر ٹھیک طریقے سے رہنمائی اور فن دیا گیا تویہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا بھی باعث بن سکتا ہے۔
اس حوالے سےاسلام آباد کے قریب ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں موجود پاکستان میں یورپی یونین، ہالینڈ اورجرمنی کی مدد سے چلنے والے پروگرام میں فنی تعلیم کے ماہر راجہ سعد خان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں موجود خواندہ لوگوں کی بڑی تعداد میٹرک تک تعلیم کی حامل ہے لیکن یہ تعلیم بغیر کسی فنی تربیت کے بالکل بے کار ہوگئی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار محمود جان بابر سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’لوگ تعلیم کے حصول کے بعد بھی بڑی مشکل سے ملازمت حاصل کر پاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ پوری کی پوری آبادی بے کار ہے۔‘
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے سال 2050 تک یہ 35 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ آبادی کا یہ ’دھماکہ‘ ملک کو ڈبو بھی سکتا ہے۔

تاہم اس میں حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ ملک کی موجودہ آبادی کا 63 فی صد 25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پرمشتمل ہے اور یہی شرح رہی توسال 2050 میں نوجوانوں کی تعداد 23 کروڑ 60 لاکھ ہو جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر ان نوجوانوں کو فنی تربیت دی گئی تو نہ صرف وہ ملک میں اپنا روزگار کرنے کے قابل ہوں گے بلکہ اگر انھیں ملک سے باہر بھیجا جائے تو وہ بڑا زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بھی بنیں گے۔
اس سیمینار میں موجود ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر پاکستان ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تواسے اپنی شرح نمو آٹھ فی صد تک بڑھانی ہوگی وگرنہ دوسری صورت میں آبادی میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے بے روزگاری بڑھ جائے گی جس سے پاکستان کی مسابقتی استعداد کم ہو جائے گی۔







