اہلسنت و الجماعت کے رہنماؤں پر مذہبی منافرت کا مقدمہ

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد پولیس نے مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں تنظیم اہلسنت والجماعت کی مرکزی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ کے انچارج کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تنظیم کی مرکزی قیادت نے، جن میں محمد احمد لدھیانوی اور اورنگزیب فاروقی سمیت 14 افراد شامل ہیں، اسلام آباد کے ہاکی گراؤنڈ میں ایک کانفرنس کے دوران تقریروں کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلائی اور مخالف فرقے کے خلاف تقریریں کیں۔
پولیس کے مطابق ان تقاریر کی وجہ سے شہر میں بدامنی پھیلنے کے شدید خطرات ہیں۔
مقامی پولیس کے مطابق ان افراد نے یہ تقاریر 18 اکتوبر کو کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سابق مرکزی رہنما مولانا اعظم طارق کی برسی کے موقعے پر کی تھیں۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے اس کی ایف آئی آر سیل کر دی ہے تاہم اس ضمن میں پولیس کے اعلیٰ حکام کی طرف سے مقدمے کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ابھی تک کوئی ٹیم تشکیل نہیں دی گئی۔
ان افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 اے کے تحت درج کیا گیا ہے جو ناقابل ضمانت جُرم ہے اور قانون میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو دس سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
اہلسنت والجماعت کے ترجمان حافظ اُنیب فاروقی نے مقدمے کے اندراج کی تردید کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او نے اُن کی جماعت کی قیادت کو بتایا ہے کہ اُن کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسا کرنے کا کوئی حکم ملا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے سے متعلق اُن کی جماعت کی قیادت جلد لائحۂ عمل کا اعلان کرے گی۔
یاد رہے کہ راولپنڈی میں گذشتہ برس عاشورۂ محرم کے موقعے پر فرقہ وارانہ تصادم کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد سے دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں وقتاً فوقتاً حالات کشیدہ ہوتے رہے ہیں۔
اس دوران جہاں ان شہروں میں اہلسنت والجماعت کے مقامی رہنما ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں، وہیں راولپنڈی میں شیعہ مسلک کی امام بارگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
حافظ اُنیب فاروقی کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد میں اہلسنت والجماعت کے دس سے زائد مقامی رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
اُدھر اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام نے وزارت داخلہ سے مشاورت کے بعد محرم کے دوران شہر میں کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوج کو سٹینڈ بائی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ محرم کے دوران شہر میں رینجرز کے گشت میں اضافہ کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اہلسنت والجماعت کو فروری سنہ 2012 میں کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جبکہ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے کبھی بھی اہلسنت والجماعت کو کالعدم قرار نہیں دیا اور نہ ہی اُن پر پابندی عائد کی گئی ہے۔







