این اے 89: احمد لدھیانوی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن معطل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبے پنجاب کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 89 سے اہلسنت والجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی کو فاتح قرار دینے والا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو دیا۔
عدالت نے الیکشن ٹریبیونل کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن شیخ محمد اکرم کا انتخاب کالعدم قرار دینے اور اہلسنت والجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی کو فاتح قرار دینے کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا۔
عدالت نے نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے یہ معاملہ دوبارہ الیکشن ٹریبیونل کو بجھوا دیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کو تین ماہ کے اندر نمٹایا جائے۔
درخواست گُزار شیخ محمد اکرم کے وکیل مخدوم احمد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ٹریبیونل نے وجوہات کا زکر کیے بغیر اُن کے موکل کی کامیابی کانوٹیفکیشن منسوخ کرتے ہوئے اُن کے مخالف حریف مولانا احمد لدھانوی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جو کسی بھی طور پر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔
مخدوم احمد کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹریبیونل نے اُن کے موقف کو بھی نہیں سُنا اور ثبوتوں کے بغیر اُن کے موکل کی بطور رکن پارلیمنٹ رکنیت منسوخ کردی۔
یاد رہے کہ فیصل آباد کے الیکشن ٹریبیونل نے نو اپریل کو مولانا احمد لدھیانوی کی درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شیخ محمد اکرم کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے اٹھارہ اپریل کو مولانا احمد لدھانوی کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نوٹیفیکیشن کی معطلی کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن شیخ محمد اکرم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ان کو انصاف دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کالعدم جماعتوں کے لیڈر بغیر الیکشن لڑے پارلیمنٹ میں آنا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ مئی 2013 کے انتخابات کے دوران اہلِسنت والجماعت کے کئی امیدواروں نے انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا جس میں جماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی نے جماعت کے گڑھ جھنگ کی قومی اسمبلی کی نشست 89 سے الیکش میں حصہ لیا تھا جس میں شیخ اکرم کامیاب قرار پائے تھے۔ ان انتخابی نتائج کے خلاف اس وقت اہلسنت والجماعت نے نتائج کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ جماعت کا دعویٰ تھا کہ اس شکست میں بین الاقوامی طاقتوں کا ہاتھ تھا۔
تاہم اہلسنت والجماعت نے نتائج پر سوال اٹھائے اور اس الیکشن ٹریبیونل کےسامنے چیلنج کرتے ہوئے الیکشن ٹریبیونل کو درخواست دی تھی۔
خیال رہے کہ سپاہ صحابہ پاکستان کو 2002 میں کالعدم تنظیم قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد یہ نئے نام اہلسنت والجماعت کے ساتھ سامنے آئی تھی۔ اہلسنت والجماعت کو سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سنہ دوہزار بارہ میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
احمد لدھیانوی نے بعض مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر متحدہ دینی محاذ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ اس اتحاد کی سربراہی جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سمیع الحق کر رہے تھے۔
اہلسنت والجماعت پر پابندیوں اور دیگر معاملات کی وجہ سے جماعت کے سربراہ متحدہ دینی محاذ کے پلیٹ فارم سے کھڑے ہوئے تھے۔







