مہمند ایجنسی:خواتین کا سکیورٹی فورسز کے خلاف مظاہرہ

مظاہرین نے علاقے کی مرکزی سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے علاقے کی مرکزی سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں قبائلی خواتین اور بچوں نے سکیورٹی فورسز کی طرف سے گھروں پر چھاپے مارنے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے جبکہ جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی کے تحصیل حلیم زئی کے علاقے دربہ خیل کے درجنوں خواتین اور بچوں نے سکیورٹی فورسز کی طرف سے گھروں پر چھاپے مارنے اور ’بے گناہ لوگوں کی گرفتاری کے خلاف‘ اچانک مرکزی مہمند باجوڑ شاہراہ پر نکل کر احتجاج شروع کر دیا۔

مظاہرین نے علاقے کے مرکزی سڑک کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ تین گھنٹے تک خواتین اور بچے سڑک پر احتجاج کرتے رہے اور اس دوران مرکزی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد رفت معطل رہی۔

انھوں نے کہا کہ خواتین کا مطالبہ تھا کہ دو دن پہلے سکیورٹی فورسز کی طرف سے علاقے میں گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیے جانے والے افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ پولیٹکل انتظامیہ کی طرف سے یقین دہانیوں کے بعد خواتین اور بچوں نے اپنا احتجاج ختم کیا اور بعد میں مہمند باجوڑ شاہراہ ٹریفک کےلیے کھول دی گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور پولیو کارکنوں پر حملوں میں تیزی آرہی ہے جس سے علاقے میں ایک مرتبہ پھر حالات کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ امربھی اہم ہے کہ قبائلی علاقوں میں خواتین اور بچوں کی طرف سے سڑکوں پر احتجاج کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔

ادھرجنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

جنوبی وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق جمعے کی صبح جنوبی وزیرستان کے علاقے تحصیل شکئی میں شیر خواہ کے مقام پر دھماکہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دو افراد سڑک پر جا رہے تھے کہ اس دوران ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔

اہلکار کے مطابق دھماکے میں باخان نامی ایک شخص ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے شخص قبائلی ملک بتائے جاتے ہیں تاہم سرکاری طور اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔

ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کی تنطیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

قبائلی علاقوں میں طالبان مخالف قبائلی سرداروں اور مشران پر حملوں کا سلسلہ گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ کالعدم تنظیمیں ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً قبول کرتی رہی ہیں۔