برطانوی قیدی پر حملہ کرنے والے پولیس اہلکار کا ریمانڈ

،تصویر کا ذریعہPA
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
توہینِ مذہب کے جرم میں سزائے موت پانے والے برطانوی شہری راجہ اصغر علی پر راولپنڈی کی جیل میں قاتلانہ حملہ کرنے والے پولیس اہلکار محمد یوسف کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ادھر برطانوی دفترِ خارجہ نے راجہ اصغر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی شہری پر فائرنگ کا واقعہ رواں ماہ کی 25 تاریخ کو اڈیالہ جیل میں پیش آیا تھا اور راجہ اصغر اس حملے میں زخمی ہوئے تھے۔
راجہ اصغر جیل میں اپنی بیرک میں موجود تھے کہ جیل پولیس کے اہلکار یوسف نے وہاں جا کر ان پر فائرنگ کر دی تھی۔
راولپنڈی پولیس نے اس معاملے پر پہلے اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کیا تھا جس میں اتوار کو اعلیٰ حکام کی ہدایت پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ان دفعات کے اضافے کے بعد ملزم یوسف کو پیر کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گری کی عدالت کے جج ملک قیوم کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم یوسف نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا کہ راجہ اصغر پر فائرنگ اس کا ذاتی فعل تھا اور اُنھیں اس پر کسی نے نہیں اُکسایا۔
تفتیشی اہلکار کا کہنا تھا کہ چونکہ ملزم سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے اس لیے مزید تفتیش درکار نہیں جس پر عدالت نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی پولیس کے مطابق ملزم یوسف کا تعلق صوبہ پنجاب کے وسطی ضلع چنیوٹ کے گاؤں سالار والا سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ادھر راولپنڈی کی انتظامیہ نے جیل میں ہونے والے اس واقعے کو سکیورٹی کی ناکامی قرار دیا ہے اور حقائق معلوم کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
یہ کمیٹی اڈیالہ جیل کے اعلیٰ حکام سے ملزم یوسف کے مسلح ہو کر جیل کے اندر جانے سے متعلق پوچھ گچھ کرے گی۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ کمیٹی ایک ہفتے میں رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کرے گی جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
جیل قوانین کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ کو بھی جیل کے معائنے کے دوران اسلحہ لے کر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
ملزم یوسف کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے راجہ اصغر اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور اُن کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔
برطانوی دفترِ خارجہ کی تشویش
اس معاملے میں برطانوی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام کو راجہ اصغر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر گہری تشویش ہے۔
بیان کے مطابق برطانوی قونصلر نے راجہ اصغر سے ملاقات کی ہے اور وہ جیل اور ہسپتال کے حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
دفترِ خارجہ کایہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر پہلے بھی آواز اٹھا چکے ہیں اور ’ضروری ہے کہ راجہ اصغر کے تحفظ اور ان کی ذہنی حالت کے بارے میں تحفظات دور کیے جائیں اور ان کی اپیل کی سماعت کے دوران بھی انھیں مدِنظر رکھا جائے۔‘







