بحریہ ڈاک یارڈ پر حملہ، بلوچستان سے تین اہلکار گرفتار

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب پاکستان نیوی کے تین ایسے اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر کراچی میں نیوی ڈاک یارڈ حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
کوئٹہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اہلکار ایک پرائیویٹ گاڑی میں کراچی سے فرار ہوئے تھے۔
ذرائع کے مطابق ان اہلکاروں کو پیر کے روزکوئٹہ شہر میں داخل ہونے سے قبل ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس سے گرفتار کرنے کے بعد تحقیقات کے لیئے کراچی منتقل کردیا گیا ہے ۔
یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ نیوی کے یہ اہلکار کہاں جانا چاہتے تھے۔
خیال رہے کہ کراچی میں پاکستان بحریہ کے ڈاک یارڈ پر یہ حملہ شدت پسندوں نے چھ ستمبر کوکیا تھا اور اس واقعے میں گرفتار سات شدت پسندوں سے پہلے ہی تفتیش جاری ہے۔
اس حملے اور نیوی کے اہلکاروں کے درمیان چھ گھنٹے تک فائرنگ کے تبادلے میں نیوی کا ایک اہلکار اور تین حملہ آور ہلاک ہو گئے تھے جبکہ نیوی کے ایک افسر سمیت چھ اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ آور بحریہ کی تنصیبات اور اثاثوں کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حملے میں اندرونی مدد کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اور بغیر اندر کی مدد کے حملہ آور سکیورٹی حصار نہیں توڑ سکتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا اور ایک حملہ آور کے رابطے شمالی وزیرستان میں بھی تھے۔
انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں سے چار خودکش جیکٹس، تین کلاشنکوفیں، نو پستول، تین سیٹلائٹ فون اور مذہبی لٹریچر بھی برآمد ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد یہ چوتھا بڑا حملہ ہے، اس سے پہلے کراچی ایئرپورٹ، پشاور ایئرپورٹ اور کوئٹہ میں آرمی ایوی ایشن اور ایئر فورس کے بیسزپر بھی حملے کیے جا چکے ہیں۔







