’نیوی ڈاک یارڈ پر حملے میں نیوی کے اہلکار ملوث ہیں‘

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد یہ چوتھا بڑا حملہ ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد یہ چوتھا بڑا حملہ ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کراچی

پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کراچی میں نیوی ڈاک یارڈ پر ہونے والے حملے میں نیوی کے اہلکار بھی شامل ہیں جن سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی کے نقطۂ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس حملے میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ بدھ کے روز اس بارے میں تفصیلات معلوم کر کے ایوان کو آگاہ کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے کراچی میں مہران نیول بیس پر ہونے والے حملے میں بھی نیوی کے کچھ اہلکار شامل تھے۔

اس سے پہلے پاکستان بحریہ نے کراچی میں اپنے ڈاک یارڈ پر حملہ کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا جس میں ایک افسر ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان بحریہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سنیچر کی شب نیوی ڈاک یارڈ پر یہ حملہ کیا گیا، جس میں جوابی کارروائی کے دوران دو مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ چار کو گرفتار کر لیا گیا۔

بحریہ ڈاک یارڈ میں نیوی کے جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی مرمت کی جاتی ہے۔

نیوی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں نیوی کے میرین اور ایس ایس جی کمانڈوز نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔

بی بی سی کی جانب سے پاکستان بحریہ کے ترجمان سے جب یہ معلوم کیا گیا کہ حملہ آور کون ہیں، وہ کس طرح ڈاک یارڈ میں داخل ہوئے اس بارے میں انھوں نے تفصیلات بتانے سے معذرت کی۔

ادھر بی بی سی کو نامعلوم مقام سے موصول ہونے والی ٹیلی فون کال میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد یہ چوتھا بڑا حملہ ہے، اس سے پہلے کراچی ایئرپورٹ، پشاور ایئرپورٹ اور کوئٹہ ایئرپورٹ پر بھی حملے کیے جا چکے ہیں۔

کراچی میں نیوی تنصیبات پر یہ دوسرا حملہ شمار کیا جاتا ہے، اس سے پہلے مہران بیس میں شدت پسند داخل ہوگئے تھے، جس میں نیوی کے طیاروں کو نقصان پہنچا تھا۔