کامرہ حملے کے دوران فرائض سے غفلت پر تین فوجیوں کا کورٹ مارشل

پاکستانی فضائی افواج کے اہم مرکز منہاس ایئر بیس، کامرہ پر شدت پسندوں کے حملے کے دوران فرائض سے غفلت برتنے کے الزام میں فضائیہ کے تین اہلکاروں کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
سینیئر ٹیکنیشن ظفر اقبال، کارپورل ٹیکنیشن وسیم اقبال اور سینیئر ایئر کرافٹ مین شاویز خان کے خلاف منہاس ایئر بیس کے اندر ہی قائم کی گئی فوجی عدالت میں کارروائی کا آغاز سوموار کو ہوا ہے۔
<link type="page"><caption> اٹک میں کامرہ ائیر بیس پر حملہ</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/08/120816_kamra_attack_army_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
ملزمان کے وکیل لیفٹینٹ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے نامہ نگار آصف فاروقی کو بتایا کہ ان تینوں ملزمان کے خلاف فرائض سے غفلت برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
فوجی عدالت کی جانب سے جاری کردہ الزامات کی فہرست کے مطابق یہ تینوں افراد 16 اگست 2012 کی شب شدت پسندوں کے حملے کے دوران ایئر بیس کی حفاظت میں ناکام رہے۔
انعام الرحیم کے مطابق یہ تینوں افراد جہازوں کی مرمت کے شعبے میں کام کرتے ہیں اور فوجی اڈے کے حفاظت کی ذمہ داری ان کی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی سرحد کے قریب واقع فضائیہ کا یہ اڈہ حساس ترین فوجی تنصیبات میں شامل ہوتا ہے جس کی حفاظت کے لیے ایک سے زیادہ ادارے ذمہ دار ہیں۔
حیرت انگیز طور پر اس حملے کے بعد اس اڈے کی حفاظت پر معمور حفاظتی عملے کے کسی رکن کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن تین تکنیکی اہلکاروں کے خلاف جہاز کی حفاظت میں ناکامی کے الزام کے تحت کورٹ مارشل کی کارروائی کی جا رہی ہے ان میں سے ایک کا کام جہاز کی مینٹیننس ہے، دوسرے کی ذمہ داری جہاز میں موجود آکسیجن کے نظام کو درست رکھنا اور تیسرے کا کام اسی جہاز کو ایندھن اور اسلحے سے لیس کرنا ہے۔
پچھلے سال ہونے والے اس حملے کے دوران پاکستانی فضائیہ کا ایک ساب 2000 طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا جب کہ دو کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ اس حملے میں نو حملہ آوروں اور حفاظتی عملے کے دو ارکان سمیت کل 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان تینوں ملزمان کے خلاف ایئر فورس ایکٹ کی دفعہ 42 ای اور 65 کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
ملزمان کے وکیل کے مطابق سماعت کے دوسرے دن انہیں منہاس ایئر بیس کے عملے نے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جس کے باعث کورٹ مارشل کی کارروائی نہیں ہو سکی۔







