عدلیہ ہیرو یا زیرو؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان تحریکِ انصاف نے اپنی حکومت مخالف تحریک میں الیکشن کمیشن کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس تصدق حسین جیلانی اور ان کے ساتھیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان ججوں میں سے اکثر وہ ہیں جو 2007 کی بحالیِ عدلیہ کی تحریک کے بعد ہیرو کے طور پر ابھرے لیکن صرف چند سالوں میں ان کا کردار بطور ولن پیش کیا جا رہا ہے۔
نوجوان وکیل اور تجزیہ نگار بابر ستار سمجھتے ہیں کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر تنقید عمران خان کی سیاسی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر ان کی تھیوری نامکمل سمجھی جاتی ہے۔
’عمران نے جو گرینڈ تھیوری پیش کی ہے کہ کچھ حلقے نہیں بلکہ پورے کا پورا الیکشن فکسڈ تھا اور نواز شریف کو جعلی مینڈیٹ دیا گیا، اس کے لیے انتہائی ضروری تھا کہ وہ افتخار محمد چوہدری کو بھی اس میں ملوث کریں کیونکہ عدلیہ نے انتخابات میں ریٹرننگ افسران کی صورت میں ایک کردار ادا کیا تھا۔ اگر عمران خان جب تک افتخار محمد چوہدری اور الیکشن کمیشن کو مشترکہ طور پر موردِ الزام نہیں ٹھہراتے، اس وقت تک یہ تھیوری نہیں بنا سکتے تھے۔‘
پاکستان میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری عدالتی فعالیت کی علامت کے طور پر ابھرے، گذشتہ 15 روز سے ان کی ذات اور ان کے ساتھیوں پر الزامات سے کیا ان کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے؟ کئی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے سابق جسٹس ناصر اسلم زاہد کا کہنا ہے کہ الزام تو لگتے رہتے ہیں لیکن جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے ایک بیان سامنے آنا چاہیے تھا کہ وہ اس میں ملوث نہیں ہیں اور اس میں اگر کوئی مناسب سمجھے تو انکوائری بھی کرائی جا سکتی ہے۔
ان کے خیال میں یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ لوگوں کو بات کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ یہ صرف آمریت میں ہو سکتا ہے اب اگر چھوٹی سے بات پر الجھیں گے تو پھر یہ نظام کیسے چلے گا۔
پاکستان کے سینیئر وکیل عابد حسین منٹو کی رائے بھی جسٹس ناصر اسلم زاہد کے خیال سے قریب تر ہے۔ عابد حسین منٹو کہتے ہیں کہ عدلیہ کی ساکھ اس وقت متاثر ہوتی ہے جب عدلیہ کوئی غلط کام کرے۔ صرف بیانوں سے تو اس کی ساکھ کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty
عمران خان تو کافی عرصے سے بیان بازی کر رہے ہیں اور بعد میں وہ جواب دائر کر کے تقریباً معافی بھی مانگ چکے ہیں۔
’جن لوگوں پر ان اداروں کا اثر ہوتا ہے وہ لوگ اب اتنے باشعور ہیں کہ یہ سمجھ سکیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کون کیا کر رہا ہے اس سے عدلیہ پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا، بلکہ عدلیہ کا تو مثبت کردار سامنے آیا ہے کہ اس نے اس سارے کام میں کوئی مداخلت نہیں کی۔‘
بابر ستار کی رائے ان دونوں سینیئر قانون دانوں سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی عدالت پر الزام لگتا ہے تو ان الزامات کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں کیونکہ تحقیقات کا کوئی طریقہ کار ہی موجود نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ یہ کر پائے گی، اس تحریک نے عدلیہ کو ایک ایسی جگہ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سے اس کی ساکھ بحال کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔
’جب دیگر اداروں کا مسئلہ ہو تو وہ سپریم کورٹ سے فیصلہ لے سکتے ہیں لیکن اگر سپریم کورٹ اور عدلیہ پر سوال اٹھنا شروع ہوجائیں پھر کون فیصلہ کرے اور اور کون یہ فیصلہ دے گا کہ انہوں نے صحیح کیا تھا یا غلط؟ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔‘
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے الزامات پر حکومت نے سپریم کورٹ کا کمیشن تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا ہے جو انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کرے گا۔
پاکستان میں گذشتہ حکومت میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان بالادستی پر تکرار جاری رہی، بعض دیگر اداروں کے بالواسطہ تسلط کی کوشش کی وجہ سے بھی ماضی میں اداروں میں ٹکراؤ رہا ہے۔
سندھ میں دو حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو سندھ ہائی کورٹ نے ماتحت ججوں کی بطور ریٹرننگ افسر خدمات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ جس کے بعد یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آنے والے انتخابات میں کیا یہ فیصلہ بطور پالیسی ہو سکتا ہے۔







