’پاکستان میں ایڈز کا مرض بڑھ رہا ہے‘

ایچ آئی وی وائرس ایڈز کے مرض کا ذمہ دار ہے جو کہ انسان کے مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے

،تصویر کا ذریعہSPL

،تصویر کا کیپشنایچ آئی وی وائرس ایڈز کے مرض کا ذمہ دار ہے جو کہ انسان کے مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کراچی

پاکستان میں ایڈز کے مرض کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ 2000 سے 2013 تک ایچ آئی وی ایڈز سے ہونے والی اموات میں سالانہ 11 فیصد اضافہ ہو چکا ہے البتہ اس عرصے میں ٹی بی اور ملیریا کے باعث ہونے والی اموات میں کمی آئی ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف واشنگٹن کے انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلوایشن کے تحت بین الاقوامی سائنس دانوں کے ایک گروپ نے کی ہے۔

اقوام متحدہ کے متعین ملینیم ڈیویلپمنٹ گولز (ہزاریے کے ترقیاتی اہداف) کے مطابق پاکستان میں 2015 تک ایچ آئی وی/ایڈز، ٹی بی اور ملیریا کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کیے جانے تھے۔

آغا خان یونیورسٹی کے سینٹر فار ایکسیلینس ان ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے ساتھ کام کرتے ہوئے پاکستان نے ٹی بی اور ملیریا کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر مہم چلائی، چنانچہ جلد تشخیص اور درست علاج کے باعث اس مہم کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اب اس امر کی یقین دہانی کرنی ہے کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے باعث پاکستان میں مزید جانیں ضائع نہ ہوں۔

تحقیق کے مطابق عالمی سطح پر ایڈز اور ٹی بی سے ہونے والے ہلاکتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اس کے برعکس 2000 سے 2013 کے درمیان پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے نئے کیسز رپورٹ ہونے کی شرح اوسطاً سالانہ 15 فیصد ہو گئی ہے۔

پہلے ایک لاکھ افراد میں سے ایک کیس سامنے آتا تھا تاہم اب اسی تعداد میں 6.7 کیسز سامنے آتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز پر قابو پانے کی اتنی کوشش نہیں کی جا رہی جتنی کہ ٹی بی کے باعث ہونے والی اموات میں کمی کے لیے کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں ہر سال ٹی بی سے مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، جو 2013 میں کم ہو کر 37,500 تک جا پہنچی۔

پاکستان نے ٹی بی اور ملیریا کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر مہم چلائی، چنانچہ جلد تشخیص اور درست علاج کے باعث اس مہم کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے ٹی بی اور ملیریا کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر مہم چلائی، چنانچہ جلد تشخیص اور درست علاج کے باعث اس مہم کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے

اس تمام عرصے میں آبادی کے حجم اور افراد کی عمروں میں فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے تحقیق کاروں نے یہ معلوم کیا کہ 2000 میں پاکستان میں ایک لاکھ افراد میں ٹی بی کے 277 مریض تھے اور اب یہ تعداد کم ہوکر 151 ہوگئی ہے۔

2013 عالمی سطح پر ایڈز کو کم کرنے کی کوششوں میں کامیابی ہوئی ہے تاہم مخصوص خطوں اور ممالک میں اس کی شرح میں کمی بیشی ہوتی رہی۔

ایک ایسے وقت میں جب دیگر ممالک میں خاطر خواہ کامیابی دیکھنے میں آ رہی ہے، پاکستان میں اس مرض کی شرح میں اضافہ اس تحقیق کو تقویت دیتا ہے اور عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔

جلد تشخیص اور موثر علاج نے دنیا بھر میں ٹی بی سے ہونے والے انفیکشن کے دورانیے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم تحقیق کاروں نے یہ نشاندہی کی ہے کہ عمر میں اضافے کے ساتھ ٹی بی کے نئے کیسز اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملکی اور عالمی سطح پر ٹی بی کے باعث ہونے والی زیادہ تر اموات معمر افراد کی ہوتی ہیں۔

اس مطالعے میں دنیا بھر میں ملیریا کے نئے کیسز اور ان سے ہونے والی اموات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

پاکستان میں ملیریا سے ہونے والی اموات میں سالانہ 4.6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 2013 میں ان اموات کی تعداد 3,160 تھی۔ زیرِ صحارا افریقہ اور جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں ہر سال لاکھوں افراد ملیریا کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں، اس کے مقابلے میں پاکستان میں ملیریا سے ہونے والی اموات کی تعداد نسبتاً کم ہے۔