بلوچستان میں وزیرستان متاثرین کی آمد میں’رکاوٹیں‘

پشتونوں اور بلوچوں کی کچھ روایات ہیں جن کے تحت وہ کسی مشکل میں ایک دوسرے کے علاقے میں جاتے ہیں: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپشتونوں اور بلوچوں کی کچھ روایات ہیں جن کے تحت وہ کسی مشکل میں ایک دوسرے کے علاقے میں جاتے ہیں: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل دوسری بڑی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے شکایت کی ہے کہ وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی بلوچستان میں آمد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع صوبے کی ضلع ژوب کی سرحدیں وزیرستان سے ملتی ہیں۔

شمالی وزیرستان میں حالیہ فوجی آپریشن کے باعث وہاں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کی ژوب یا اس سے متصل دیگر اضلاع میں آمد متوقع ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے نے کہا ہے کہ بلوچستان کی حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن وہاں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو روکا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان افراد کو قانون نافذ کرنے والے ادارے سنگر اور مغل کوٹ کے علاقے میں روک رہے ہیں جہاں ہمارے صوبے کی سرحد شروع ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب صوبائی حکومت کی جانب سے ان کی داخلے پر پابندی نہیں تو پھر اس شدید گرمی میں ان لوگوں کو کیوں روکا جا رہا ہے۔

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی داخلے پر پابندی نہیں ہے لیکن وہاں سے جو لوگ آئیں گے ان کی چھان بین ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہاں سے کون آ رہا ہے اس لیے قانون نافذ کرنے والے چھان بین کر رہے ہیں کہ کہیں نقل مکانی کرنے والوں کی آڑ میں کوئی شرپسند یا دہشت گرد نہ آ جائے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز سنیچر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے وزیرستاں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے پانچ کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پشتونوں اور بلوچوں کی کچھ روایات ہیں جن کے تحت وہ کسی مشکل کی صورت میں کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ایک دوسرے کے علاقے میں جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے جن مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے ان کے بارے میں متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی اس سلسلے میں پالیسی واضح ہے اور وہ پالیسی یہ ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی بلوچستان میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں۔